مغربی تہذیب اور اسلام
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۸
آج دوبارہ اسی مومنانہ فراست (divine wisdom) کی ضرورت ہے جو حدیبیہ کے موقع پر اختیار کی گئی۔ اگر ہم ایسا کر سکیں تو دوبارہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔ ناموافق صورت حال میں موافق حالات برآمد ہو جائیں گے اور ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ ان چھپے ہوئے موافق امکانات کو استعمال کر کے اسلام کی نئی تاریخ بنا سکیں۔
مغربی تہذیب کے علم بردار اپنے سیاسی اور اقتصادی انٹرسٹ کے تحت بہت سی ایسی کارروائیاں کرتے ہیں، جو ہمارے نزدیک ہمارے ملی انٹرسٹ کے خلاف ہوتی ہیں۔ بطور واقعہ میں اس بات کو درست مانتا ہوں۔ مگر اس کا تعلق حقیقتاً اسلام دشمنی سے نہیں ہے۔ یہ تمام تر کاپٹیشن کا معاملہ ہے۔ یہ دنیا کا مقابلہ کے اصول پر بنائی گئی ہے ، اس لیے اس قسم کے واقعات یہاں ہمیشہ جاری رہتے ہیں اور جاری رہیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کو فطرت کا تقاضا قرار دیتے ہوئے اپنی ساری توجہ اُن امکانات کی تلاش اور ان کو استعمال کرنے میں لگا دیں جو بظاہر مخالف حالات کے باوجود ہمارے لیے یہاں پوری طرح موجود ہیں۔
دجال کی حدیث بذات خود صحیح ہے۔ مگر جہاں تک جدید مغربی تہذیب کا تعلق ہے وہ یقینی طور پر حدیث دجال کے تحت نہیں آتی۔ مغربی تہذیب کا معاملہ زیادہ صحیح طور پر اس دوسری حدیث سے تعلق رکھتا ہے جو ادخال الکلمہ کی نسبت سے بطور پیشین گوئی وارد ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب ادخال الکلمہ کی خدائی اسکیم کے لیے ایک معاون عامل (supporting factor) بن کر ابھری ہے۔ دجال والی حدیث سے اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔
مذکورہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے چھوٹے اور بڑے گھر کے اندر داخل ہو جائے گا۔ غور کیجئے تو موجودہ اسباب کی دنیا میں اس پیشین گوئی کو عملی طور پر واقعہ بنانے کے لیے بہت سے معاون ذرائع درکار تھے۔ یہ معاون ذرائع پچھلے زمانہ میں موجود نہ تھے۔ یہ صرف جدید مغربی تہذیب ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار ان تمام وسائل و ذرائع کو مکمل طور پر مہیا کر دیا ہے جو ادخال الکلمہ کے عمل کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔ اس طرح حدیث کے الفاظ میں، مغربی تہذیب کا کیس نہ دوست کا کیس ہے اور نہ دشمن کا کیس، بلکہ اس کا کیس تیسرا ہے، اور وہ موئد (سپورٹر) کا کیس ہے۔ اس معاملہ کی عملی وضاحت کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues