مقبول دعا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۶
مقبول دعا
دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ سچی دعا ہو۔ کوئی بندہ اگر حقیقی معنوں میں سچی دعا کرے تو دعا اور قبولیت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوگا۔ خدا کو غیرت آتی ہے کہ بندہ خدا سے مانگے اور وہ اس کی مانگ کو پورا نہ کرے۔ مگر ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ مانگنے والے نے صحیح معنی میں مانگنے کا حق ادا کیا ہو۔
دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں۔ دعا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اپنے اندر طلسماتی اثر رکھتے ہیں۔ اور اگر آدمی ان الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ اپنی زبان سے دہرادے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کی دعا ”مناجات مقبول“ کے ہم معنی بن جائے گی۔ دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے احساس کا اظہار ہے نہ کہ الفاظ کا اظہار۔ بندہ کے دل میں امنڈتی ہوئی کیفیات جب بیتاب ہو کر زبان سے نکل پڑتی ہیں تو اسی کا نام دعا ہوتا ہے۔ حقیقی دعا وہ ہے جس میں آدمی کی پوری شخصیت شامل ہو جائے۔ جو آدمی کے پورے وجود کی نمائندہ بن گئی ہو۔
دعا کی قبولیت کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کو دعا کے مطابق ڈھال لے۔ مثلاً ایک شخص شراب پیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی صحت خراب ہو گئی ہے۔ اب اگر وہ شخص خدا سے صحت کی دعا کرے تو اس کے ساتھ اس کو شراب نوشی کو ترک کرنے کا عہد بھی کرنا ہوگا۔ اسے اپنی دعا میں یہ کہنا ہوگا کہ خدایا، تو مجھے تندرست کر دے اور اس کے شکرانے میں میں آج ہی سے شراب نوشی کو چھوڑنے کا عہد کرتا ہوں۔ دعا کے ساتھ اس قسم کا عہد گویا اس کی قبولیت کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا کر دے اس کے لئے دعا کی قبولیت بالکل یقینی ہو جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues