منافقانہ خوبی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۷
منافقانہ خوبی
قرآن میں منافقین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اور جب تم انھیں دیکھو تو ان کے جسم تم کو اچھے لگتے ہیں۔ اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو تم ان کی بات کو سنتے ہو (واذا رایتم تعجبك اجسامهم وان يقولوا تسمعلقولهم) المنافقون ٤ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ امانت (honesty) لوگوں کے دلوں سے اٹھ جائے گی۔ اس زمانہ میں بظاہر لوگوں کے اندر حسن اخلاق موجود ہوگا مگر وہ منافقانہ ہوگا نہ کہ مخلصانہ۔ یہاں تک کہ ایک شخص کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ کتنا زیادہ عاقل ہے اور وہ کتنا زیادہ ظرف والا ہے اور وہ کتنا زیادہ صبر و استقلال والا ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ (ويقال للرجل ما اعقله وما اظرفه وما اجلده وما فی قلبه مثقال حبة خردل من ايمان ) فتح الباری ٣٤١/١١ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کردار کی دو قسمیں ہیں ۔ ۔۔۔ مخلصانہ اور منافقانہ۔ جو اخلاقی خوبیاں ایک مخلص انسان کے اندر ہوتی ہیں بظاہر وہی غیر مخلص انسان کے اندر بھی ہو سکتی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کو صرف مخلصانہ کردار مطلوب ہے، غیر مخلصانہ کردار کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ مخلصانہ کردار خوف خدا کے تحت پیدا ہوتا ہے اور منافقانہ کردار خوف انسان کے تحت۔ مخلصانہ کردار کا محرک آخرت کا معاملہ ہے اور منافقانہ کردار کا محرک دنیا کا معاملہ۔ مخلصانہ کردار خدا پرستانہ جذبہ کے تحت ابھرتا ہے اور منافقانہ کردار صرف تاجرانہ جذبہ کے تحت۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues