تاریخ برائے نصیحت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
تاریخ برائے نصیحت
قرآن میں حضرت موسیٰ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ خدا نے ان کو پیغمبر بنایا اور یہ حکم دیا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ اور ایام اللہ کے ذریعہ ان کی تذکیر کرو (ابراہیم ۵)
عربی زبان میں ایام کا لفظ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کے لئے بولا جاتا ہے مثلاً کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایام عرب کا عالم ہے یعنی عرب کے تاریخی واقعات سے (یقال فلان عالم بایام العرب ای بوائعھا) اس آیت میں ایام سے مراد ایام تاریخ ہیں۔ ابن عباس اور مقاتل نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے کہ اس سے مراد وہ خدائی واقعات ہیں جو پچھلی قوموں کے ساتھ گذرے (عن ابن عباس ايضا ومقابل : بوائع الله فی الامم السالفة) الجامع لاحكام القرآن للقرطبی ۳۴۲/۹ مذکورہ حکم جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا اس کا تعلق خود ان کی اپنی قوم سے تھا ، یعنی بنی اسرائیل سے ۔ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ بنی اسرائیل کو گذری ہوئی تاریخ یاد دلاؤ اور اس کے ذریعہ ان کی نصیحت کرو۔ نصیحت سے مراد یہاں یہ ہے کہ ان کی تاریخ میں نصرت اور نعمت کے جو واقعات ہیں ان کو یاد دلا کر ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھارو۔ اسی طرح ان کی تاریخ میں ابتلا و آزمائش کے جو واقعات ہیں ان کو یاد دلا کر ان کے اندر عبرت کے احساسات کو جگاؤ۔
اس سے معلوم ہوا کہ تاریخ کا مطالعہ برائے فخر نہیں ہے بلکہ برائے نصیحت ہے۔ تاریخ کے مطالعہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کو قومی فخر کا عنوان بنایا جائے۔ اس کے ذریعہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues