اعتدال کی روش
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷
اعتدال کی روش
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ خدا نے مجھ کو نو باتوں کا حکم دیا ہے۔ روایت کے مطابق، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ غصہ اور رضا مندی دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں (کلمۃ العدل فی الغضب والرضی) مشکاۃ المصابیح ۱۷۷۲/۳ یہ خدا سے ڈرنے والے ایک آدمی کی نہایت صحیح پہچان ہے۔ خدا کا ڈر اور آخرت کی پکڑ کا اندیشہ آدمی کو وہ آدمی بنا دیتا ہے جس کو انسان اصلی (man cut to size) کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے اندر سے کبر اور نمائش اور جھوٹے وقار جیسے جذبات ختم ہو گئے ہوں۔ عجز وانکساری اس کی صفت بن گئی ہو، جو کہ کسی انسان کے اندر اس وقت لازماً پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ خدا کی عظمتوں کو پالے۔
جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس وقت وہ اپنے میں نہیں رہتا۔ اس کے اندر انتقام کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ جس آدمی نے اس کو غصہ دلایا ہے اس کے خلاف جو کچھ کر سکتا ہے کرے مگر سچے مومن کے لئے اس قسم کا رویہ جائز نہیں۔ معتدل حالت میں ہر آدمی درست بات کرتا ہے۔ مگر جب اس کے سینہ میں غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو وہ اعتدال سے ہٹ جاتا ہے۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ جو آدمی دونوں حالتوں میں منصفانہ روش پر قائم رہے وہ خدا کا مطلوب انسان ہے اور جو آدمی اعتدال کی حالت میں ٹھیک رہے اور غصہ کی حالت میں کچھ اور بن جائے وہ خدا کا مطلوب بندہ نہیں۔ یہ آئیڈیل ہے، اور آئیڈیل پر چلنا ہر آدمی کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت دی ہے کہ جو آدمی جذبات سے مغلوب ہو کر غلط حرکت کر بیٹھے اس کو چاہیے کہ وہ اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہو اور اس کی شرعی تلافی کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues