Al-Risala · December 1998 · page 18

اعتصام بحبل اللہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸

اعتصام بحبل اللہ

قرآن (آل عمران ۱۰۳) میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ۔ ۔۔ اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور متفرق نہ ہو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے (واعتصموا بحبل ٱللَّهِ جميعا ولا تفرقوا واذكروا نعمة الله عليكم اذ كنتم اعداء فالف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا) اس آیت میں اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب قرآن ہے۔ اور تفرق کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اپنے اپنے ذاتی مفاد کو لے کر متفرق نہ ہو جاؤ اور اللہ کے دین میں سب بھائی بھائی بن کر رہو (ويجوز ان يكون معنا ه ولا تفرقوا متابعين للهوى والاغراض المختلفة، وكونوا في دين الله اخوانا) تفسیر القرطبی زندگی کے دو طریقے ہیں۔ ۔۔۔۔ متابعت قرآن، متابعت ہوئی ۔ جو لوگ سچے مومن ہوں اور پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا اتباع کرنا چاہتے ہوں ان کی ساری توجہ خدائی احکام کی طرف لگ جائے گی۔ ان کا تقوی ان کے اندر یہ شدید جذبہ پیدا کرے گا کہ وہ بے لاگ طور پر خدا کی مرضی کو جانیں اور پوری طرح اس پر قائم ہو جائیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کی دلچسپی کا مرکز ان کی خواہشیں اور ان کے اغراض ہوں وہ کبھی یکساں ذہن کے تحت نہیں سوچ سکتے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنی خواہش اور اپنے مفاد کی طرف دوڑے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک کی راہ دوسرے سے الگ ہو جائے گی۔ جو لوگ سچائی کے ساتھ خدا کی کتاب کو اپنا رہنما بنائیں ان کے اندر لازمی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page