Al-Risala · December 1998 · page 19

اعتصام بحبل اللہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹

اتحاد ہو گا۔ اور جن لوگوں کی خواہشیں ان کی رہنما بن جائیں وہ لازمی طور پر متفرق اور مختلف ہو جائیں گے، وہ کبھی متحد گروہ نہیں بن سکتے۔

کتاب اللہ کو رہنما بنانے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ برتر سچائی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ یہ برتر سچائی چونکہ ایک ہے اس لئے تمام لوگوں کی توجہ صرف ایک نقطہ پر لگ جاتی ہے۔ اس فکری اتحاد کا نتیجہ عملی اتحاد کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے بر عکس جب لوگوں کی توجہ کا مرکز ان کی اپنی خواہش بن جائے تو ہر ایک کی خواہش چونکہ الگ الگ ہوتی ہے اس لئے لوگوں کے نشانے بھی الگ الگ ہو جائیں گے ۔ اسی کے نتیجہ کا دوسرا نام اختلاف وافتراق ہے۔

آیت میں ’’جمیعاً‘‘ کا لفظ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ قرآن کی مخلصانہ پیروی کا ذہن اتحاد کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں پوری جماعت متحد العمل بن جاتی ہے۔ اس کے بر عکس اہواء اور اغراض عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے تفرق کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ افکار و اعمال کے اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

اجتماعی زندگی میں ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ عام حالات میں یہ شکایت پیدا ہو کر بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ لوگ اپنی اپنی شکایتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ تفرق کی صورت میں نکلتا ہے۔ مگر جن لوگوں کو ایمانی شعور حاصل ہو جائے وہ انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھ کر خدا میں جینے لگتے ہیں۔ شکایتیں ان کے اتحاد میں رکاوٹ نہیں بنتیں ۔ وہ شکایتوں کے باوجود اس طرح ہو جاتے ہیں جیسے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page