سفر امریکہ ۵
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰
سفر امریکہ ۵
فریب جلوہ کی یہ کشش آج سیکڑوں گنا زیادہ بڑھ چکی ہے۔ پھر آج کسی شخص کے لیے یہ کتنا مشکل ہوگا کہ وہ بزم عالم سے اپنے دل کو اوپر اٹھا سکے۔
ادھیڑ عمر کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بہت پریشان نظر آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک بینک میں میں افسر تھا، اچھی تنخواہ تھی۔ پھر میں نے امریکن لڑکی سے شادی کی۔ اس کے بعد میرے اخراجات بہت بڑھ گئے۔ بینک میں میں نے ایک فراڈ کیا۔ میرا فراڈ پکڑا گیا ۔ میری ملازمت ختم ہوگئی۔ برسوں تک میں ہاؤس اریسٹ رہا۔ میری صحت اور اقتصادی زندگی دونوں تباہ ہو گئی۔ اب بتائیے کہ میں کیا کروں۔
میں نے دو مشورے دیے۔ میں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنی حد (Limit) کو جانیے ۔ آپ نے جو فراڈ کیا وہ آپ کی طاقت سے باہر تھا۔ آپ اپنی حد پر قائم نہیں رہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ ماضی کو مکمل طور پر بھلا دیجیے۔ اس بات کو اچھی طرح جان لیجیے کہ آپ جہاں آج ہیں وہیں سے دوبارہ آپ اپنا سفر شروع کر سکتے ہیں ، پیچھے سے سفر کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی غلطی کرتا ہے۔ تاہم آدمی کو دو بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ ایک یہ کہ یہاں غلطی کرنا آسان ہے۔ مگر غلطی کو نبھانا انتہائی مشکل کام ہے۔ دوسرے یہ کہ نقصان خواہ کتناہی بڑا ہو وہ آدمی کے سارے امکانات کو ختم نہیں کرتا ۔ ہر نقصان کے بعد یہ امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی از سر نو اپنی قوتوں کو اکٹھا کرے ، وہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرکے دوبارہ نئی کامیابی حاصل کرلے۔
۲۸ اگست کی شام کو پروگرام کے مطابق ہم لوگ سنٹرل جرسی (South Brons Wick) کے لیے روانہ ہوئے ۔ یہاں ڈاکٹر مہدی نقوی کے مکان پر ایک اجتماع رکھا گیا تھا : Tel. (908) 297-8037, 297-4100 یہ پچاس میل کا سفر تھا جو ایک گھنٹہ میں طے ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر راستہ میں ایک جگہ کار ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ٹریفک جام ہوگئی اور ہم لوگ ڈیڑھ گھنٹہ میں پہنچ سکے۔ میرے سر میں چکر کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ لوگ ایر ہیک ہوتے ہیں، میں کار ہیک ہوں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں تو آدمی کار انجوائے کرتا ہے۔ مغرب کے وقت ہم لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues