Al-Risala · December 1998 · page 21

سفر امریکہ ۵

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

ڈاکٹر مہدی نقی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ یہ بہت کھلی اور پرفضا جگہ تھی۔

مغرب کی نماز کے بعد کھانا کھایا گیا۔ اس کے بعد ہال نما وسیع بیسمنٹ میں اجتماع ہوا، تعلیم یافتہ مسلمان عورتیں اور مرد بڑی تعداد میں اکٹھے تھے۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ قرآن وحدیث میں کہا گیا ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب رہے گا، وہ کبھی مغلوب ہونے والا نہیں۔ اس سے غلط طور پر کچھ لوگوں نے سیاسی غلبہ مراد لے لیا ہے۔ اور بزعم خود اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے لیے جگہ جگہ بے فائدہ لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد اسلام کا نظریاتی غلبہ ہے، اور فکری اور نظریاتی غلبہ بلاشبہ ہر دوسرے غلبہ سے زیادہ عظیم ہے۔ پھر تفصیل سے بتایا کہ اسلام کا یہ غلبہ ہمیشہ قائم رہا ہے اور آج سائنسی دور میں بھی وہ آئیڈیالوجیکل سپر پاور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پھر میں نے بتایا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تشدد اور جنگ کی تباہ کن سرگرمیوں کو چھوڑ کر اسلام کی فکری برتری کے پہلو کو نمایاں کریں۔ اس سے ان کی اپنی روحانی ترقی بھی ہوگی اور دنیا کے لوگ تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہوں گے۔ رات کو ڈیڑھ بجے میں اپنی رہائش گاہ پر واپس آیا۔

۱۹۸۸ میں پان امریکن ورلڈ ایئرویز (پان ایم) کا ایک جہاز اسکاٹ لینڈ کے شہر (Lockerbie) کے اوپر اڑ رہا تھا کہ اس کے اندر بم پھٹا اور وہ تباہ ہو گیا۔ ۲۷۰ آدمی مرگئے، جو زیادہ تر امریکی تھے۔ یہ ایک بڑی امریکی کمپنی تھی مگر اس کے بعد وہ بند ہو گئی۔ جب کہ ٹھیک اسی طرح ایر انڈیا کا ایک جہاز دورانِ پرواز بم کا شکار ہوا اور وہ سمندر میں گر پڑا۔ مگر ایر انڈیا اس کے بعد بھی بند نہیں ہوئی، اس فرق کا سبب مجھے موجودہ سفر کے دوران معلوم ہوا۔

اصل یہ ہے کہ امریکہ میں فرد کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ پان ایم کے حادثہ کے بعد مرنے والے مسافروں کے ورثا نے یہاں کی عدالتوں میں مقدمات کیے اور تلافی کے لیے بہت بڑی بڑی رقموں کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے ہر ایک کے حق میں فیصلے دیے۔ اس کے بعد کمپنی کو تمام لوگوں کو بڑی بڑی رقمیں دینی پڑیں ۔ حتیٰ کہ اس کے اثاثے فروخت ہو گئے۔ اس طرح پان ایم دیوالیہ ہو کر بند ہو گئی۔

پان ایم کے حادثہ کا سبب دو لیبی باشندے تھے جن کو معمر قذافی نے اس کام کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page