Al-Risala · December 1998 · page 23

You have nothing to fear except the fear itself.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳

وہ ایسا کریں کہ اسلام کے بجائے قوم اور ملک کے نام پر ان کو انجام دیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں اور اس غیر اسلام کو بدستور اسلام کے نام پر جاری رکھیں تو مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ وہ سخت طور پر خدا کی پکڑ میں آ جائیں گے۔

جارج واشنگٹن (99-1732) امریکہ کا پہلا صدر تھا۔ وہ پیروں سے معذور تھا اور وہیل چیئر پر رہتا تھا۔ مگر اس نے امریکہ کی تاریخ میں بہت بڑا کام کیا ہے۔ 1929 میں یہاں زبردست اقتصادی بحران آیا۔ اس وقت جارج واشنگٹن نے نہایت مثبت اقدامات کیے اور لوگوں کے حوصلے کو بلند کیا۔ وہ کہتا تھا کہ :

You have nothing to fear except the fear itself.

آزادی کے بعد برصغیر ہند میں بدقسمتی سے کوئی " واشنگٹن " نہیں اٹھا۔ اور یہی ہماری تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ایک کتاب میں مزاحیہ جواب پر ایک باب (Artless art of repartee) تھا۔ اس میں یہ قصہ لکھا تھا کہ ایک وکیل بہت تیز تھا۔ چنانچہ ایک جج اس سے جلنے لگا۔ اور چاہنے لگا کہ کسی نہ کسی طرح اس کی انسلٹ کرے۔ ایک بار جج کے یہاں ایک کیس تھا۔ مذکورہ وکیل اس پر اپنے آرگومنٹ پیش کر رہا تھا۔ اس وقت جج کے پاس اس کا کتا بیٹھا ہوا تھا۔ جج نے چاہا کہ وکیل کو نظر انداز کرے۔ چنانچہ وہ اپنے کتے کی طرف متوجہ ہو کر اس سے بولنے لگا۔ اس کے بعد وکیل خاموش ہو گیا۔ جج نے کہا کہ آپ اپنا سلسلہ کلام جاری رکھئے۔ وکیل نے جواب دیا کہ مسٹر خیال ہے کہ جناب عالی اس وقت مشورہ میں مصروف ہیں :

I think 'your lordship is under consultation.

جواب کا یہ انداز بے حد موثر انداز ہے۔ اس انداز کا جواب دینے کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی جھنجلاہٹ میں مبتلا نہ ہو اور ہر حال میں اپنے ذہنی توازن کو برقرار رکھے۔ مذکورہ وکیل اتنا موثر جواب دینے پر صرف اس لیے قادر ہوا کہ وہ جج کے توہین آمیز رویہ پر غصہ نہیں ہوا۔ اگر وہ غصہ ہو جاتا تو کبھی بھی وہ جج کو اتنا موثر جواب نہیں دے سکتا تھا۔ نیویارک میں ہم لوگ صبح کو جس راستہ پر ٹہلنے کے لیے جاتے تھے ، وہاں سلسلہ وار یہودیوں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page