We cannot become the World's policeman.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴
کی فروٹ وغیرہ کی دکانیں تھیں۔ ہم دیکھتے تھے کہ صبح سویرے ہی یہ تمام دکانیں کھل جاتی ہیں۔ لیکن ۳۱ اگست کی صبح کو ہم یہاں سے گزرے تو تمام دکانیں بند پڑی ہوئی تھیں ۔ معلوم ہوا کہ آج سنیچر کا دن ہے اس لیے دکانیں بند ہیں۔ یہ لوگ ۲۴ گھنٹہ تک یوم سبت مناتے ہیں جیسا کہ بائبل میں ہے اور جمعہ کی شام سے لے کر سنیچر کی شام تک کوئی کاروبار نہیں کرتے۔
میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اسلام میں بھی جمعہ کو یہی حیثیت دی گئی ہے۔ مگر آپ سورہ جمعہ کو پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو اس وقت اپنا کاروبار چھوڑ کر مسجد آجاؤ۔ اور جب جمعہ کی نماز پوری ہو جائے تو دوبارہ اپنے کاروبار کی طرف واپس چلے جاؤ۔ دونوں کا تقابل کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کا قانون مکمل طور پر فطری ہے اور یہودی شریعت کا قانون سراسر غیر فطری۔
امریکہ کے صدر کلنٹن (Bill Clinton) نے ۲۹ اگست کو اپنی تقریر میں امریکی قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم دنیا کے پولیس مین نہیں بن سکتے ؛
We cannot become the World's policeman.
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات امریکی قوم کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ آپ کسی امریکی سے ملیں اور اس سے بات کریں تو آپ فوراً محسوس کریں گے کہ اس کو عالمی سیاست سے بہت کم واقفیت ہے۔ اس کی دل چسپیوں کا مرکز اس کا اپنا ملک امریکہ ہے نہ کہ ساری دنیا۔ یہاں کے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
۳۰ اگست کو جمعہ کی نماز کے بعد نیویارک کی مسجد میں ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بہت عرصہ سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ہر جگہ مسلم ملکوں کے اندر دخل اندازی کر رہا ہے۔ ہمیں امریکہ کو ڈاؤن کرنا ہوگا، ورنہ وہ ہمیں جینے نہیں دے گا۔ میں نے کہا کہ یہ سارا مفروضہ ہی غلط ہے۔ امریکہ تو انتہائی حد تک ایک خود پسند ملک ہے۔ کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں اس کی "دخل اندازی" بالادستی حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اپنا انٹرسٹ محفوظ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اور اپنے انٹرسٹ کو محفوظ کرنا ایک فطری چیز ہے جو ہر جاری
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues