Al-Risala · December 1998 · page 25

We cannot become the World's policeman.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵

اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک امریکی نے کہا:

We must act where we see that our interests are at stake. امریکہ میں پیدا ہونے والے ایک مسلم نوجوان نے سوال کیا کہ نماز کے طریقوں میں اتنا فرق کیوں ہے۔ کوئی ایک ڈھنگ سے پڑھتا ہے اور کوئی دوسرے ڈھنگ سے۔ میں نے کہا کہ جو کچھ فرق ہے وہ جزئی آداب میں ہے نہ کہ بنیادی ارکان میں۔ اور جزئی آداب میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں نماز پڑھارہے تھے۔ رکوع سے اٹھنے کے بعد عام لوگوں نے خاموشی کے ساتھ ربنا لك الحمد کہا۔ ایک صاحب بلند آواز سے کہہ اٹھے : ربنا لك الحمد حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه۔ نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ نے پوچھا کہ کس نے اس طرح بلند آواز سے کہا تھا۔ وہ صاحب ڈرے کہ شاید مجھ سے غلطی ہوگئی۔ پھر رسول اللہ نے کہا کہ وہ اتنا اچھا کلمہ تھا کہ اس کو لینے کے لیے بہت سے فرشتے دوڑ پڑے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز کا جو مقرر طریقہ (prescribed method) ہے اس کا مقصد صرف ایک بنیادی ڈھانچہ (basic structure) دینا ہے۔ اس بنیادی ڈھانچہ میں جزئی اور ضمنی فرق بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کوئی مکینکل قسم کا عمل نہیں۔ وہ ایک کیفیاتی عمل ہے۔ اور کیفیاتی عمل کبھی بھی بالکل لگے بندھے انداز کا نہیں ہو سکتا۔ نماز کے بیک وقت دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا ظاہری ڈھانچہ، اور دوسرے اس کی داخلی اسپرٹ جس کو قرآن میں خشوع کہا گیا ہے۔ اس خشوع کا تعلق کیفیت سے ہے، اور کیفیت کبھی بھی مکمل طور پر روٹین کی پابند نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ اور صحابہ کی نمازوں کے بارے میں جو روایات حدیثوں کی کتابوں میں آئی ہیں ان میں بہت سے ضمنی فرق پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق کیفیات کے تنوع کی بنا پر ہیں جو بالکل فطری ہے۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانی بہت سے اخبارات شائع کرتے ہیں۔ انھیں میں سے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page