Al-Risala · December 1998 · page 26

We cannot become the World's policeman.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶

ایک انڈیا مانیٹر (India Monitor) ہے جو نیویارک سے چھپتا ہے۔ اس کو یہاں کے مقیم ہندو نکال رہے ہیں۔ اس کا شمارہ ۱۸اگست ۱۹۹۶دیکھا۔ تقریباً پورا اخبار برصغیر ہند کی خبروں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی ایک رپورٹ ہندوستان کی پرائیویٹ ایئر کمپنیوں کے بارے میں تھی جس کے ساتھ گجرات ایرویز کی تصویر شامل تھی :

امریکہ میں مختلف ملکوں کے اور مختلف مذہبوں کے لوگ بستے ہیں۔ ہر قوم اور ملت کے لوگ اپنا اپنا اخبار نکالتے ہیں۔ مثلاً ہندو، مسلمان، سکھ، فلسطینی، مصری، وغیرہ۔ مگر ان میں سے ہر اخبار کی حیثیت کمیونٹی پیپر کی ہے۔ یعنی جو گروہ اخبار نکالتا ہے اسی کے افراد اس کو پڑھتے ہیں۔ یہ صرف یہودیوں کی خصوصیات ہے کہ وہ جو اخبار یا میگزین نکالتے ہیں اس کو یہودیوں کے علاوہ سبھی لوگ پڑھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ اپنے اخبار میں صرف اپنی باتیں چھاپتے ہیں۔ اور یہودیوں کے اخبار میں سب کی باتیں موجود ہوتی ہیں۔

انڈیا مانیٹر کے رپورٹروں میں کئی مسلم نام بھی دکھائی دیے۔ مثلاً شہید لطیف، جاوید نقوی، راجہ اصغر، شیخ مشتاق، رمضان حسین ! انڈیا کی آزادی کے پچاس سال پوراہونے (commemoration) کے طور پر ایک پورا صفحہ تھا۔ اس میں گاندھی، نہرو، پٹیل، ٹیگور، سروجنی نائیڈو، امبیڈکر، رادھا کرشنن، مولانا آزاد کی تصویریں تھیں۔ ہر تصویر کے ساتھ اس کا ایک قول نقل کیا گیا تھا اور پھر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا :

کئی آوازیں، ایک قوم (Many voices, one nation)

سروجنی نائیڈو کی تصویر کے ساتھ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ : کوئی بھی آپ کو وہ چیز نہیں دے سکتا جس کو لینے کی خود آپ کے اندر استعداد نہ ہو :

No one can give to you what you do not have the capacity to take. یکم ستمبر کو لیبر ڈے کی چھٹی تھی۔ اس دن بڑی تعداد میں امریکی تفریح کے لیے مختلف مقامات پر چلے جاتے ہیں۔

۲ ستمبر ۱۹۹۶ کی شام کو ہم لوگ فلا ڈلفیا سے دوبارہ نیویارک واپس آگئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page