We cannot become the World's policeman.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہالینڈ سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہالینڈ میں صد فی صد تعلیم ہے، جب کہ امریکہ میں ابھی تک ۹۰ فی صد تعلیم پائی جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں بڑے بڑے لوگ بھی سادہ انداز میں رہتے ہیں۔ ہالینڈ کے پرائم منسٹر کو ایک بار ماحولیات کے موضوع پر ٹی وی پر بولنا تھا۔ ان کو یہ کہنا تھا کہ لوگ گیس کے خرچ کو گھٹائیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی ہو سکے۔ اس کی ایک تدبیر انھوں نے یہ بتائی کہ لوگ کار کا استعمال کم کریں اور بائیسکل کا استعمال شروع کریں۔ اس مشورہ پر پہلا عمل خود پرائم منسٹر نے کیا۔ چنانچہ وہ بائیسکل پر سوار ہو کر ٹی وی اسٹیشن گئے۔
مولانا ذکی الدین شرفی نہایت مخلص اور نہایت با کردار آدمی ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کی دوسری ممتاز صفت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اغیار کی سازشوں کے بارہ میں ان کی معلومات کا خزانہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ عجیب و غریب سازشیں دریافت کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ سوویت یونین کی شکست یہودیوں کی سازش سے ہوئی، یہ یہودی ہی تھے جنھوں نے میکائیل گورباچیوف کو پلانٹ کیا تھا۔
ان کا خیال تھا کہ میں اس قسم کی سازشوں سے بالکل بے خبر ہوں۔ میں نے کہا کہ میرے ایک قریبی عزیز شاید آپ سے بھی زیادہ اس فن کے ایکسپرٹ ہیں۔ ان کے دماغ کو سازشوں کی انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے میرے اور آپ کے درمیان جو فرق ہے وہ واقفیت کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ سازش کے مقابلہ میں کیا کیا جائے ۔ آپ لوگ سازش کے انکشافات کو کام سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس میں قرآن کی اس آیت کو پکڑے ہوئے ہوں : وان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً۔ میرے نزدیک اس کی اہمیت نہیں ہے کہ لوگ سازش کر رہے ہیں۔ اصل دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ مسلمانوں میں صبر و تقویٰ ہے یا نہیں جو اس کا اصل توڑ ہے۔ ایک پاکستانی بزرگ سے پاکستان کی سیاست پر بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی مجرموں کے احتساب (عملاً بھٹو کے احتساب) کی جو تحریک چلائی گئی وہ سراسر غلط تھی۔ وہ اس کی تائید کر رہے تھے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ "انڈیا کے علماء اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ بھٹو کتنا بڑا عذاب تھا، اور اس کی بیٹی اس سے بھی زیادہ بڑا عذاب ہے۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues