Al-Risala · December 1998 · page 28

We cannot become the World's policeman.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۸

میں نے کہا کہ آپ نے میری بات کاٹ دی۔ میں بھٹو کو صالح انسان نہیں مانتا۔ میں صرف بھٹو کو ختم کرنے کی سیاست کو غیر صالح قرار دیتا ہوں۔ اور اس کا اقرار خود آپ نے اپنی زبان سے کر لیا۔ میرا کہنا یہ ہے کہ کسی عوامی لیڈر کو قتل کرنا ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد شہید بن کر وہ لوگوں کے درمیان ہیرو بن جاتا ہے۔ آپ لوگوں کی یہی پالیسی تھی جس نے خود آپ کے الفاظ میں چھوٹے عذاب کو ختم کر کے زیادہ بڑا عذاب اپنے اوپر مسلط کر لیا۔ یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ابی بن کعب کو قتل نہیں کرایا۔ کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ زندہ ابی بن کعب چھوٹا مسئلہ ہے اور مقتول ابی بن کعب زیادہ بڑا مسئلہ۔

عرصہ ہوا امریکہ سے اسرائیل اور یہود کے بارے میں کتابیں چھپی ہیں۔ ان کا ٹائٹل ہے، ہم، یہود اور اسرائیل کی کیا قیمت ادا کر رہے ہیں:

1. What price Israel 2. What price Jews ان کتابوں میں دکھایا گیا ہے کہ یہودی کس طرح امریکہ کو لوٹ رہے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ کتابیں بہت پسند ہیں۔ بعض افراد نے جوش کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ مگر میرے نزدیک ان کتابوں کا صحیح تاثر یہ نہیں کہ یہودیوں کو "لوٹنے والا "ثابت ہوتے ہوئے دیکھ کر آپ خوش ہوں۔ اصل یہ ہے کہ ان کتابوں سے یہ سبق لیا جائے کہ موجودہ زمانہ میں آنے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں کس طرح یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ایک گروپ انتہائی چھوٹی اقلیت رہتے ہوئے کس طرح پورے ملک کو اپنے حوصلوں کی تسکین کا میدان بنا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ۱۹۴۸ میں فلسطینیوں نے ٹکراؤ کے بجائے اگر اسی پالیسی کو اختیار کیا ہوتا تو آج فلسطین میں ان کی وہی حیثیت ہوتی جو آج یہودیوں کی امریکہ میں ہے۔

ایک صاحب نے امریکہ کے تعلیمی نظام کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے اسکولوں میں بچوں کو جب کسی مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو بتایا جاتا ہے تو بورڈ پر لکھ کر کہا جاتا ہے کہ ــــــــ یہ حقیقت ہے، اور یہ رائے ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page