Al-Risala · December 1998 · page 29

These are facts, these are opinions.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹

These are facts, these are opinions.

انہوں نے کہا کہ اس طرح ہمارے بچوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے ہیں۔ وہ گھر میں آتے ہیں تو جو مذہبی معاملات ان کی سمجھ میں نہیں آتے ان کی بابت وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک رائے ہے (opinion)۔

میں نے کہا کہ یہ ذہن حقیقی اسلام کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ کیونکہ وہاں تو ہر چیز حقیقت ہے۔ مگر آپ اس کو خطرہ اس لیے محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے حقیقی اسلام کے ساتھ خود اپنی طرف سے اس میں بہت سے اضافے کر رکھے ہیں۔ یہ اضافے غیر فطری اور غیر ثابت شدہ ہیں۔ اگر آپ ان اضافوں کو ہٹا دیں تو اس کے بعد جو اسلام بچے گا وہ ان بچوں کو حقیقت ہی دکھائی دے گا۔ ایک مجلس میں میں نے امریکہ میں مذہبی آزادی اور مواقع دعوت کے بارے میں کچھ کہا۔ پاکستان سے آئے ہوئے ایک بزرگ نے فرمایا کہ آپ انڈیا میں رہتے ہیں، آپ امریکہ کے بارہ میں نہیں جانتے۔ ہم یہاں رہتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ہی لوگ جب ماڈرن کمیونی کیشن کی بات کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ یہ گلوبل ولیج کا زمانہ ہے۔ پھر آپ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انڈیا میں رہنے والا آدمی امریکہ کے بارہ میں نہیں جان سکتا۔ میں نے کہا کہ مجھ میں اور آپ لوگوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ آپ بھی یہاں عملاً اپنی ہی سوسائٹی میں رہتے ہیں۔ خالص امریکیوں سے آپ کا انٹراکشن بہت کم ہوتا ہے۔ امریکی معاشرہ کے بارہ میں آپ کی معلومات زیادہ تر میڈیا کی اطلاعات پر مبنی ہیں یہی میرا بھی حال ہے۔ میں پانچ بار امریکہ آیا ہوں۔ اس کے علاوہ انڈیا میں ہر روز امریکہ کے بارے میں پڑھتا رہتا ہوں۔ اس لیے عملاً میرے اور آپ کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں۔ محمد البھناس ایک مصری ہیں۔ وہ امریکہ کی ایک مسجد میں خطبہ اور امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے لائق آدمی کی قدر دانی کرنا نہیں جانتے۔ جہاں کوئی آدمی ابھرا وہ فوراً اس کو نیچا دکھانے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ہزار برس میں مسلمانوں نے صرف یہ سیکھا ہے کہ خود اپنی قیادت کو کس طرح تباہ کریں : How to destroy their own leadership

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page