These are facts, these are opinions.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰
میں نے کہا کہ ہر امت کا ایک آزمائشی پہلو ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے ہر امت اسی آزمائش میں فیل ہوتی رہی ہے۔ نسل ابراہیم (بنی اسرائیل) کو اللہ نے منتخب کیا کہ ان کو تربیت دے کر ان کے ذریعہ عمومی شہادت کا کام لیا جائے۔ مگر بلایا یہ ہوا کہ ان کے اندر منتخب قوم (Chosen people) کا نظریہ پیدا ہوا اور داعی اور شاہد بننے کے، بجائے وہ متکبربن کر رہ گئے۔
یہودی زعم کو توڑنے کے لیے حضرت مسیح کو غیر معمولی معجزات دیے گئے۔ مگر ان کے پیروؤں نے یہ کیا کہ خود حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ اور اس طرح توحید میں شرک کا عقیدہ شامل کر دیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں آپ کے اصحاب کے ذریعہ یہ کام لیا گیا کہ قائم شدہ نظام جبر کو توڑا گیا تاکہ مذہبی آزادی کا ماحول پیدا ہو اور توحید کی دعوت کھلے ماحول میں جاری ہو سکے۔ اہل اسلام کے فوجی آپریشن کے ذریعہ یہ مقصد تو حاصل ہوا۔ مگر دوسرا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں میں حاکمانہ نفسیات پیدا ہو گئی۔ اسی حاکمانہ نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان کسی کی اطاعت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، الا یہ کہ انھیں اس کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ مغربی قوموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ اتحاد ہے۔ اسی طرح ہندوؤں میں بھی اتحاد ہے۔ مگر مسلمانوں میں کہیں بھی اتحاد نہیں۔ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سچائی ایک ہے۔ اب ہر مسلمان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ ”ایک“ مجھے حاصل ہے۔ اس لیے وہ دوسرے سے لڑتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سچائی تو ایک ہی ہو سکتی تھی اور وہ مجھ کو حاصل ہو گئی۔ دوسرا جس چیز پر ہے وہ لازماً غلط ہے۔ کیونکہ سچائی ایک سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتی۔
اس کے برعکس مغربی قوموں نے سیکولر نظریہ اختیار کر کے سرے سے اس بحث ہی کو ختم کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی سچائی کا تصور ایک وہم ہے، اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس طرح وہ اس نفسیاتی پیچیدگی ہی سے خالی ہو گئے ہیں جو دو فریقوں میں ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔ ہندوؤں کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ مان لیا کہ سچائی خواہ ایک ہو، مگر اس کے مظاہر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues