These are facts, these are opinions.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱
الگ الگ ہیں۔ اس نفسیات نے ان کے اندر یہ ذہن بنایا کہ اگر میں سچا ہوں تو دوسرا بھی سچائی کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ عقیدہ اپنے آپ اس شدت کو ختم کر دیتا ہے جو ٹکراؤ تک لے جاتی ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان میں بھی گہرا اتحاد قائم ہو سکتا ہے جیسا کہ دور اول میں قائم ہوا تھا۔ مگر اس اتحاد کی بنیاد ایک اور چیز میں ہے اور وہ تقویٰ ہے۔ مسلمانوں کو متحد رکھنے کی واحد طاقت تقویٰ ہے۔ اگر ان کے اندر فی الواقع خدا کا خوف موجود ہو تو یہ ان کے اتحاد کی ضمانت بن جائے گی۔ باعتبار عقیدہ اگرچہ وہ مانیں گے کہ سچائی ایک ہے۔ مگر جب اپنی ذات کا سوال ہو گا تو ان کو یہ اندیشہ لاحق ہو جائے گا کہ پتہ نہیں مجھ کو وہ واحد سچائی ملی یا نہیں۔ ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہو گا کہ آخرت میں کہیں خدا یہ نہ کہہ دے کہ تم نے جس چیز کو سچائی سمجھ لیا وہ تمہارا وہم تھا نہ کہ حقیقی سچائی۔ یہ اندیشہ ناک نفسیات مسلمان کو تفرق سے بچاتی ہے۔ مگر جب یہ متقیانہ مزاج مسلمانوں میں باقی نہ رہے تو اس کے بعد وہی کچھ پیش آتا ہے جو موجودہ مسلمانوں میں دکھائی دے رہا ہے۔
نماز کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ الصَّلَاةُ عَمَادُ الدِّينِ مَنْ اَقَامَهَا اَقَامَ الدِّينِ وَمَنْ هَدَمَهَا هَدَمَ الدِّينِ (نماز دین کا ستون ہے۔ جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے نماز کو ڈھایا اس نے دین کو ڈھادیا)
میں نے کہا کہ اس قول میں قائم کرنے اور ڈھانے کا تعلق کسی خارجی نظام سے نہیں ہے۔ اس کا تمام تر تعلق خود نمازی کی اپنی زندگی سے ہے۔ یعنی جو مسلمان فرد نماز کو اس کی صحیح اسپرٹ کے ساتھ ادا کرے گا اس کی زندگی میں نماز کی روح اتر جائے گی۔ اس کی پوری زندگی دینی رنگ میں رنگ جائے گی۔ اس کے برعکس جو شخص نماز کو اس کی صحیح اسپرٹ کے ساتھ ادا کرنے میں ناکام رہے گا، اس کی زندگی بھی اسلامی زندگی نہیں بن سکے گی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے الرسالہ میں ڈائی کاٹمک تھنکنگ کو غلط بتایا ہے۔ یہ آپ کی اپنی بات ہے یا اس کا تعلق شریعت سے ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا تعلق مکمل طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues