Today is the first day of the rest of my life.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱
۱۹۸۶ میں ملا تھا۔ اس کے بعد میں اسلام کا مطالعہ کرنے لگا۔ یہاں تک کہ میں ٹیمپل یونیورسٹی کے مذہبی شعبہ میں پہنچ گیا۔
امریکہ میں مقیم ایک مسلم دانشور سے ملاقات ہوئی۔ امریکہ کی ایک یونی ورسٹی سے انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اردو زبان بھی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے الرسالہ (اگست ۱۹۹۶) پڑھا جو حریتِ فکر کے موضوع پر ہے۔ آپ نے ۵۰ صفحہ حریتِ فکر پر لکھا ہے، مگر اصل موضوع کو تو آپ نے چھو ہی نہیں کیا۔ مجھے ان کے اس تبصرہ پر تعجب ہوا۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ لامحدود آزادی کو مانتا ہے۔ آپ کو یہ بتانا تھا کہ آزادی کی حدود کیا ہیں۔ مگر اس اہم سوال پر آپ نے کلام ہی نہیں کیا۔
اس سے اس فارسی مقولہ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ یک من علم را دہ من عقل می باید (ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے) مذکورہ دانشور کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے الرسالہ کے شمارہ کو غلط معیار سے ناپا۔ مذکورہ شمارہ کا موضوع اختلاف رائے ہے نہ کہ آزادیٔ فکر۔ وہ اسلامی معاشرہ میں حریتِ فکر کے مسئلے سے بحث کرتا ہے۔ مغربی فلسفہ کے مطابق، انسانی آزادی کا مسئلہ اس کا موضوع نہیں۔ بالفاظِ دیگر، الرسالہ کا مذکورہ شمارہ اس موضوع پر ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلہ میں اختلاف رائے کی کتنی آزادی ہے ۔ انسان کو خدا اور رسول کے مقابلہ میں کتنی آزادی حاصل ہے، یہ مذکورہ شمارہ کا موضوع بحث ہی نہیں۔
ڈاکٹر سلیمان ناینگ(۵۲سال) افریقہ میں پیدا ہوئے ۔ آج کل وہ امریکہ (واشنگٹن) میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اریٹریا کی آزادی کے باوجود وہاں کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پہلے ان کی جنگ ایتھوپیوں سے تھی اب آپس میں ہے ۔ ایک طرف اسلام پسند طبقہ ہے اور دوسری طرف سیکولر مسلمان اور عیسائی ہیں۔ عیسائی اب بھی اریٹریا میں تقریباً ۳۰ فی صد ہیں۔ اس طرح دونوں ملا کر اکثریت میں ہو جاتے ہیں اور یہی لوگ اس وقت اریٹریا میں حکومت کر رہے ہیں۔ گویا جو لڑائی افغانستان میں ہے وہی ہر جگہ مختلف صورتوں میں جاری ہے۔
اس صورت حال کی تمام تر ذمہ داری اسلام پسند طبقہ پر ہے۔ سلیمان ناینگ (Dr. Sulayman Nayang) واشنگٹن سے آئے تھے۔ وہ گامبیا میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues