Al-Risala · December 1998 · page 42

Today is the first day of the rest of my life.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲

کے بعد اب وہ واشنگٹن کی ہوورڈ یونیورسٹی میں اسلامیات کے استاد ہیں۔ امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی سفید فام لوگوں کی یونیورسٹی سمجھی جاتی ہے اور ہوورڈ یونیورسٹی سیاہ فام لوگوں کی یونیورسٹی۔

کانفرنس میں ایک صاحب نے پرجوش تقریر کی۔ جس میں امریکی نظام کے خلاف نہ صرف شکایت کا اظہار تھا بلکہ وہ امریکی نظام کے خلاف تشدد کی دعوت دے رہا تھا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ باتیں تو مجھے پاگل پن کی حد تک بے معنی نظر آتی ہیں۔ پھر اس قسم کے لوگ کیوں امریکہ میں رہتے ہیں اور بچوں کو یہاں لاکر بساتے ہیں۔

انھوں نے مذکورہ مقرر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں نہایت نرم مزاج (compassionate) ہیں۔ اپنے ذاتی کردار میں وہ لوگوں کے ساتھ نہایت نرمی کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے مقرر کی تعریف میں کہی تھی۔ مگر میرے نزدیک یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کی مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ مقرر اپنے ذاتی معاملہ میں تو موافقت اور ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور اسٹیج پر اگر دوسروں کو ٹکراؤ کے راستہ پر جانے کا سبق دے رہے ہیں۔ یہ اس حدیث کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

اپنا مثال پیش کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دجال کون ہے، اور کون نہیں ہے، یہ ایک استنباطی مسئلہ ہے۔ اور استنباطی معاملہ میں کوئی بھی حتمی طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ اس طرح کے معاملہ میں امام شافعی کا قول نہایت درست ہے کہ : رای صواب يحتمل الخطا ‌ورأيُ غیری خطا يحتمل الصواب :

My opinion is correct, with the possibility of error, inasmuch as the other opinion is wrong with the possibility of being correct. ڈاکٹر خالد یحییٰ بلینکن شپ نے ۱۹۷۳ء میں اسلام قبول کیا۔ کانفرنس میں ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ آپ نے کس طرح اسلام قبول کیا۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو سطریں لکھ کر دیں وہ یہاں نقل کی جاتی ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page