Every human being is potentially Muslim.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴
پاور اسٹرکچر میں جو لوگ ہیں وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ یہ سب سیاسی شیطان ہیں۔ یہ لوگ دشمنانِ اسلام (enemies of Islam) ہیں۔ امریکی گورنمنٹ کو صہیونی کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
یہ سب باتیں مجنونانہ حد تک بے معنی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ امریکہ میں بسنے والے اکثر مسلمان اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ انھیں اس کا احساس نہیں کہ اگر فی الواقع امریکہ ویسا ہی برا ہے جیسا کہ وہ بتاتے ہیں تو آخر وہ اپنے کو اور اپنی نسلوں کو کس خانہ میں ڈالیں گے جو اسی امریکی مشین کا پرزہ بنے ہوئے ہیں۔
کانفرنس کے موقع پر کناڈا کے مسلم میگزین کریسنٹ (4749293-416 .Tel) کی طرف سے ایک فلائر تقسیم کیا گیا۔ یہ دراصل ۱- ۱۵ ستمبر ۱۹۹۶ کا ایڈیٹوریل تھا۔ جس کا عنوان تھا : American politicians get hysterical. اس میں شکایت کی گئی تھی کہ کمیونزم کے سقوط کے بعد اسلام کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ مغرب کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اسلامک ایکٹوزم کو وحشیانہ روپ میں دکھایا جا رہا ہے۔ مشکل سے کوئی ایسا دن گزرتا ہے جب کہ مسلمانوں کی بلا سبب توہین نہ کی جاتی ہو : Islamic activism is demonized. Hardly a day passes by without some gratuitous insult being hurled at the Muslims. میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے، اس جملہ میں اسلام اور مسلمان کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جو کچھ کریں وہ اپنے آپ اسلامی بن جاتا ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سرگرمیوں کو اسلامک ایکٹوزم بتایا گیا ہے۔ حالانکہ یہ تمام سرگرمیاں بلا شبہ قومی ایکٹوزم ہیں نہ کہ حقیقۃ اسلامک ایکٹوزم۔
یہ ایک جرم ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور مسلسل انجام دے رہے ہیں۔ اس غلط روش نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کا ہر فعل اسلام کی طرف منسوب ہو کر اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ ۱۵ ستمبر کی شام کو مغرب کی نماز کی مسجد (بروکلین) میں پڑھی۔ یہاں محمد سلیم رانا صاحب سے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues