Al-Risala · February 1998 · page 14

ایک سنت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴

نے قرآن کو جمع کرنے کے لئے مجھے دیا۔

ایک سرگرم اور پر از و اوقات جد و جہد کے بعد جب قرآن ایک کتاب کی صورت میں مدون ہو گیا تو اب یہ سوال تھا کہ کثیر تعداد میں جو لکھے ہوئے اجزاء جمع ہوئے ہیں ، ان کو کیا کیا جائے۔ اب دوبارہ بحث شروع ہوئی ۔ یہاں تک کہ متفقہ فیصلہ کے تحت ان سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ یہ لمبا طرح طرح کے واقعات سے بھرا ہوا کام جس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کو ایک نئی زبر دست مشغولیت دے دی۔ اس مشغولیت کے دوران ان کے اوپر دین کے بہت سے نئے پہلو واضح ہوئے ۔ حتی کہ انھوں نے قرآن کو از سر نو دریافت (rediscover) کیا۔ انھوں نے قرآن کے ساتھ از سر نو اپنے زندہ تعلق کو استوار کیا۔ قرآن ان کے لئے محض ایک تقلیدی کتاب نہ رہا ، بلکہ ایک ایسی کتاب بن گیا جس کو انھوں نے گویا اپنی تلاش اور محنت کے دور ان دوبارہ نئے شعور کے ساتھ دریافت کیا تھا۔ یہ سنت جس کو ہم نے سمجھنے کی خاطر معنوی سنت کا نام دیا ہے ، وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ جس طرح آپ کی دوسری سنتیں ہمیشہ کے لئے مطلوب ہیں ، اسی طرح یہ معنوی سنت بھی ہمیشہ کے لئے مطلوب ہے۔ مزید یہ کہ وہ بے حد اہم سنت ہے ، کیوں کہ اسی کے ذریعہ سے امت کا احیاء ہوتا ہے ۔ وہ امت کے افراد کو مسلسل طور پر زندہ اور سر گرم عمل رکھنے کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ ہے۔

اس سلسلہ میں ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں بتا یا گیا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے اس لئے اتاری ہے کہ اس کے ذریعہ سے تمام دنیا والوں کو آگاہ کیا جائے (الفرقان ۱) ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، قرآن عربی زبان میں ہے ، جب کہ دنیا کی قوموں میں ہزاروں مختلف زبانیں رائج ہیں۔ ایسی حالت میں تمام قومیں کس طرح قرآن سے آگاہی لے سکتی ہیں۔

اگر اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہوتا کہ ہر قوم براہ راست اسی منزل قرآن سے ہدایت حاصل کرے تو وہ قرآن کو کسی بین اقوامی زبان (Lingua franca) میں اتار تا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ مومنین قرآن اس کتاب کو تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کریں اور اس طرح اس کو تمام لوگوں تک ان کی قابل فہم صورت میں پہنچائیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page