ایک سنت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
یہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنوی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو موجودہ زمانہ میں ضرورت تھی کہ اس سنت نبوی پر عمل کیا جاتا۔ مثلاً اس کی ایک صورت یہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں پریس کی ایجاد اور مواصلات کے جدید ذرائع کے ظہور نے اس کا امکان پیدا کر دیا تھا کہ قرآن کو بآسانی تمام قوموں کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ اب اگر ہمارے رہنماؤں نے اس سنت کو نہ زندہ کیا ہوتا۔ اور وہ قوم کو ابھارتے کہ قرآن کا ہر زبان میں مستند ترجمہ کرو۔ اس کو چھپواؤ اور اس کو ساری دنیا میں پہنچاؤ تو یہ اتنا بڑا کام ہوتا کہ امت پوری کی پوری اس کام میں مشغول ہو جاتی۔ اس رخ پر عمل شروع کرنے کے بعد اس کے بے شمار پہلو نکلتے۔ ہر آدمی اس میں اپنے لئے کرنے کا کام پالیتا۔
اس طرح گویا مسلمان قرآن کو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے از سر نو دریافت (rediscover) کرتے۔ قرآن دوبارہ ان کے لئے ایک زندہ کتاب بن جاتا جو ان کی پوری زندگی میں دینی بھونچال پیدا کر دیتا۔ مگر بروقت اس قسم کی رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے پوری ملت سیاست کی چٹان پر بے فائدہ طور پر اپنا سر پٹک رہی ہے اور نتیجہ دین سے بھی محروم ہے اور دنیا سے بھی۔ موجودہ زمانہ میں اس غلطی پر مزید اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ غیر دعوتی کام کو دعوت کا نام دے دیا گیا ہے۔ کوئی مسلمانوں کی اصلاح کی کوشش کو دعوت کہہ رہا ہے۔ کوئی مسجد اور مدرسہ بنانے کو دعوت کا کام سمجھ رہا ہے۔ کوئی مفروضہ دشمنانِ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے اور اس کو دعوت کا نام دے دیتا ہے۔ کوئی دوسرے مذہب کے لوگوں سے مناظرہ بازی کرتا ہے اور اس کو دعوت کا عمل قرار دے رہا ہے۔ کوئی اسلامی سیاست کا ہنگامہ کھڑا کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہی دعوت کا اصل کام ہے۔ اس قسم کی ہر کوشش ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ دعوت الی اللہ ایک متعین عمل کا نام ہے، اور وہ ہے ، خدا کے دین کو اس کی بے آمیز صورت میں غیرمسلموں تک پہنچانا۔ یہ وہی کام ہے جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ ایسا کام ہے جو ناصح اور امین بن کر انجام دیا جاتا ہے۔ یعنی خدا کی نسبت سے امانت دار اور بندوں کی نسبت سے ناصح اور خیر خواہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues