ایک سنت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶
اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں دعوت کے اصل مقصد ہی کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ دعوت کی مہم کا اصل مقصد یہ ہے خدا کے بندے خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ ہوں، وہ خدا کی مرضی سے واقف ہو کر اس کے مطابق زندگی گزاریں۔ اور پھر خدا کی رحمت و نصرت کے مستحق بنیں۔ اور جو لوگ اس کو ماننے سے انکار کریں، ان پر خدا کی حجت تمام ہو، اور آخرت میں وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں آپ کے تخلیقی منصوبہ کی خبر نہیں تھی۔ اس لئے ہم اس کی ذمہ داری سے بری ہیں۔
موجودہ زمانہ میں دعوت کے نام پر مسلمانوں نے جو سرگرمیاں جاری کر رکھی ہیں اور جن کو مجموعی اعتبار سے صحوة اسلامیہ (اسلامی بیداری) کہا جاتا ہے، اس میں یہ سارا مقصد فوت ہو گیا ہے۔ اصل دعوتی مہم میں مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق قائم ہوتا ہے، مگر موجودہ نام نہاد صحوۃ اسلامیہ میں دونوں یک دوسرے کے لئے قومی حریف یا قومی رقیب بن گئے ہیں۔
اسی قسم کا برعکس نتیجہ خود مسلمانوں کی نسبت سے ظاہر ہوا ہے۔ چنانچہ موجودہ قسم کی سرگرمیوں نے اس چیز کا خاتمہ کر دیا ہے جو اصلاً اسلام کا مطلوب و مقصود ہے۔ دعوت الی اللہ کا عمل جب مطلوب صورت میں جاری ہو تو وہ مسلمانوں کے اندر مثبت کیفیات کو ابھارتا ہے۔ مگر موجودہ سرگرمیوں نے برعکس طور پر مسلمانوں کے اندر منفی کیفیات کو فروغ دیا ہے۔
صحیح دعوتی عمل آدمی کے اندر دوسروں کے حق میں شفقت کے جذبات پیدا کرتا ہے مگر موجودہ قسم کے عمل نے مسلمانوں کے اندر نفرت کے جذبات پید اکردیے ہیں۔ صحیح دعوتی عمل آدمی کو ایک طرفہ صبر کرنا سکھاتا ہے مگر موجودہ قسم کے عمل نے مسلمانوں کو بے صبر حتی کہ تشدد پسند بنا دیا ہے۔ صحیح دعوتی عمل آدمی کو دوسروں کی ہدایت کا حریص بناتا ہے۔ مگر موجودہ عمل نے مسلمانوں میں صرف یہ جذبہ ابھاررکھا ہے کہ وہ لوگوں کو زیر کر کے ان کے اوپر غالب آجا ئیں۔ صحیح دعوتی عمل یہ سکھاتا ہے کہ دوسروں کی زیادتیوں کو معاف کر دو۔ مگر موجودہ عمل نے مسلمانوں کا یہ حال کر رکھا ہے کہ ہر ایک دوسری قوموں کی سازشوں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues