Al-Risala · February 1998 · page 17

ایک سنت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷

کے انکشاف کا ماہر بنا ہوا ہے۔ صحیح دعوتی عمل آدمی کے اندر اس نفسیات کو بیدار کرتا ہے کہ اس دنیا میں اس کی ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں۔ مگر موجودہ عمل نے ہر ممسلمان کو اپنے حقوق کی جد و جہد کا شہ سوار بنا رکھا ہے۔ صحیح دعوتی عمل لوگوں کے اندر روحانیت کی لطیف کیفیات کو جگاتا ہے۔ مگر موجودہ عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ اس نے ہر مسلمان کے اندر سیاست کا طوفانی جوش ابھار دیا ہے۔

اس غلطی کا یہ شدید تر نتیجہ نکلا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر مثبت سرگرمیاں جنم نہ لے سکیں۔ اس کے برعکس ان کے درمیان ہر طرف منفی باتوں اور منفی سرگرمیوں کا دور دورہ ہے۔ مسلمانوں کو اہل عالم کے لئے دوبارہ نفع بخش بننا تھا ۔ مگر احتجاج اور شکایت کی مہم نے عملاً ان کو ایک قسم کا پروٹسٹنٹ گروہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اہل عالم کے لئے اثاثہ بننے کے بجائے وہ اہل عالم کے لئے بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔

کسی تحریک کے صحت و سقم کو جانچنے کے لئے سب سے زیادہ آسان اور قریبی معیار یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جو لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں ان میں یہ تحریک کس قسم کا ذہن اور مزاج بناتی ہے۔ افراد تحریک کا مزاج تحریک کے صحت و سقم کو جانچنے کا یقینی معیار ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانہ کی تقریبا تمام اسلامی تحریکوں نے اپنے افراد کے اندر جو مزاج بنایا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کہیں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی نزاع پیدا ہو تو فوراً وہ اس کو اپنے لئے عزت و وقار کا سوال بنا لیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک قومی مزاج ہے نہ کہ دعوتی مزاج۔ دعوتی مزاج کیا ہے ، اس کا اندازہ کرنے کے لئے دور نبوت کی ایک مثال لیجئے۔ یہ مثال وہ ہے جو مدنی دور میں صلح حدیبیہ کے بحرانی وقت میں سامنے آئی۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ ، قریش نے حدیبیہ کے سفر میں رکاوٹ ڈال کر رسول اور اصحاب رسول کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں۔ ظاہری حالات کے اعتبار سے مصلحت کا تقاضا تھا کہ اس نازک موقع پر کوئی ایسا اقدام کیا جائے جو اسلام اور اہل اسلام کی عزت و وقار کو مجروح کرنے والا ہو۔ مگر اس وقت اس قسم کے اندیشوں کو یکسر نظر انداز کر کے قریش سے یکطرفہ صلح کا معاملہ کیا گیا ۔ اور تمام سلمان عمرہ کئے بغیر حدیبیہ کے مقام سے واپس لوٹ آئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page