ایک سنت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸
اس وقت ایک نہایت نازک مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا تھا۔ آپ نے سفر سے پہلے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کر رہے ہیں۔ اسی خواب کا اعلان کر کے آپ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ اب عمرہ کئے بغیر حدیبیہ سے واپس لوٹ جانا بے حد نازک معاملہ تھا۔ کیونکہ یہ اندیشہ تھا کہ ایسا کرنے کے بعد لوگ نعوذ باللہ آپ کی پیغمبری پر شک کرنے لگیں گے اور آئندہ آپ کی باتوں پر زیادہ یقین نہیں کریں گے۔
حدیبیہ میں قیام کے دوران قریش کے لوگوں نے کئی بار سرکشی کی۔ مثلاً ایک بار عین نماز کی حالت میں آ کر صحابہ پر پتھر مارنے لگے۔ ایک بار ایک صحابی کو تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ وغیرہ۔ اب سوال تھا کہ اگر ان کی ان حرکات پر خاموشی اختیار کر لی جائے تو وہ دلیر ہو جائیں گے اور آئندہ مسلمانوں کے خلاف اور زیادہ زیادتیاں کریں گے۔
ایک اندیشہ یہ بھی تھا کہ اگر نہ رسول اور اصحاب رسول عمرہ کئے بغیر اپنے وطن کو واپس چلے جائیں تو قریش کے حوصلے بہت بڑھ جائیں گے۔ آج وہ عمرہ کو روک رہے ہیں۔ کل وہ حج پر پابندی لگائیں گے۔ آج وہ مکہ میں داخل ہونے نہیں دے رہے ہیں۔ کل وہ مدینہ میں بھی ہمارا رہنا مشکل کر دیں گے۔ اس لئے ضروری تھا کہ پہلے ہی موقع پر سخت کارروائی کر کے ان کا حوصلہ توڑ دیا جائے۔
رسول اور اصحاب رسول کے لئے عمرہ کا یہ سفر ایک علامتی حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر اسی کے اوپر یہ فیصلہ ہونا تھا کہ آئندہ عرب میں مذہی اعتبار سے کیا صورت حال رہے گی مسلمان اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق ، اس ملک میں رہنے دئے جائیں گے یا نہیں رہنے دئے جائیں گے گویا یہ محض ایک عمرہ کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ علامتی طور پر وہ مذہبی آزادی کا وسیع تر مسئلہ تھا۔ مگر پیغمبر کی نظر میں یہ سب کی سب جزئی مصلحتیں تھیں ۔ زیادہ بڑی اور کلی مصلحت یہ تھی کہ حالات کے اندر چھپے ہوئے دعوتی مواقع کو استعمال کیا جا سکے ۔ چنانچہ آپ نے جزئی مصلحتوں کو نظر انداز کر دیا اور کلی مصلحت کو اہمیت دیتے ہوئے قریش سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ صحیح اجتہاد اور صحیح عملی منصوبہ بنانے کے لئے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues