Al-Risala · February 1998 · page 19

ایک سنت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹

مسلمانوں میں مثبت ذہن ہو۔ وہ عزت اور بے عزتی کے احساس سے اوپر اٹھ کر معاملات کو دیکھتے ہوں ۔ ان میں یہ صلاحیت ہو کہ کسی کی مخالفانہ روش ان کے ذہنی توازن کو درہم برہم نہ کرے۔ وہ معاملات کو قومی تعصب کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ بے آمیز نگاہ سے خالص اصولی اعتبار سے ہر بات کا جائزہ لیں۔ ان کا نقطہ نظر عمل کے تحت نہ بنے بلکہ اسلام کی اعلی تعلیمات کی روشنی میں طے پائے۔

مسلمانوں کے عوام اور خواص دونوں اس معیار سے بہت زیادہ دور ہو گئے ہیں۔ اس لئے آج پہلا کام یہ ہے کہ انھیں دوبارہ اس معیارِ حق پر لایا جائے۔ جب تک ان میں یہ معیار پیدا نہ ہو، وہ نہ فکری اعتبار سے کوئی بڑا کام کر سکتے ہیں اور نہ عملی اعتبار سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page