Al-Risala · February 1998 · page 20

ایک تقریر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰

ایک تقریر

’’پرشین انفلوئنس آن انڈین کلچر" ایک وسیع سبجیکٹ ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں میں اس کے صرف ایک پہلو پر اختصار کے ساتھ کچھ عرض کروں گا۔ یہ پہلو ہے ۔ فارسی مقولوں اور فارسی اشعار کا ہندوستانی سوسائٹی میں رواج اور اس کے اخلاقی اثرات۔ ۱۲ نومبر ۱۹۹ کا واقعہ ہے۔ میں انڈین ایئر لائنز کی مارننگ فلائٹ کے ذریعہ دہلی سے بڑودہ جارہا تھا۔ راستہ میں حسب معمول میں اپنے بیگ سے قلم کاغذنکال کر کچھ لکھنے لگا ۔ میرے پاس کی سیٹ پر زیادہ عمر کے ایک ہندو بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا نام مسٹر مکند دوبے (Mr. Mukund Dubey) ہے۔ ریٹائر ہونے سے پہلے وہ ہندوستان کی فارن سروس میں تھے ۔ اب وہ دہلی میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں (3718047 .Tel)

مجھ کو لکھتے ہوئے دیکھ کر مسٹر دوبے نے کہا : اردو لکھ رہے ہیں یا فارسی ۔ میں نے پوچھا کیا آپ فارسی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ میں ایران بھی جا چکا ہوں ۔ میں نے دوبارہ کہا کہ فارسی کا کوئی مقولہ جو آپ کو یاد ہو بتائیے۔ انھوں نے شیخ سعدی کا یہ مقولہ میرے کاغذ پر لکھ دیا : چگونه شکر نعمت گزارم که مردم ازاری ندارم (خدا کی اس نعمت کا میں کس طرح شکر ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا)۔ یہ چھوٹا سا واقعہ ایک دور کو بتاتا ہے جب کہ ہندوستان میں پڑھے لکھے ہندو اور مسلمان عام طور پر فارسی زبان جانتے تھے۔ فارسی کے حکیمانہ مقولے اور اشعار لوگوں کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔ مجلسوں میں فارسی کے الفاظ اور جملے اس طرح دہرائے جاتے تھے جس طرح آجکل انگریزی کے الفاظ اور جملے دہرائے جاتے ہیں ۔

مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہمارے گھروں میں فارسی کا عام رواج تھا۔ عورتیں تک فارسی زبان سیکھتی تھیں ۔ تقریباً ۶۰ سال پہلے کی بات ہے۔ ہمارے گھر کی ایک خاتون مسلمہ خانم نے اپنے والد مولانا اقبال احمد سہیل سے فارسی پڑھنا شروع کیا ۔ انھوں نے فارسی انشا کی ایک کاپی بنائی۔ اس پر وہ اردو جملوں کو فارسی میں تبدیل کرتی تھیں اور پھر اصلاح

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page