Al-Risala · February 1998 · page 21

ایک تقریر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

کے لئے اسے مولانا سہیل کو دکھاتی تھیں۔ اس کاپی کے صفحہ اول پر انہوں نے جلی حرفوں میں لکھا تھا ـــــ " از اردو فارسی ساختن " مولانا سہیل نے ان کو دیکھا تو اس کو کاٹ کر اس کے بجائے حسب ذیل الفاظ لکھ دیے: عبارت اردو را به پارسی آوردن۔

تاریخی طور پر ہندوستان میں تقریباً ۷۰۰ سال کا زمانہ ایسا گزرا ہے جب کہ ملک میں فارسی زبان کو اسی طرح غلبہ حاصل تھا جس طرح انگریز کے آنے کے بعد یہاں انگریزی زبان کو غلبہ حاصل ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک محمد بن قاسم کو چھوڑ کر ملک میں جتنے بھی مسلم فاتحین آئے تقریباً سب کی زبان فارسی تھی ۔ چنانچہ الناس علی دین ملوکہم کے اصول پر فارسی زبان اور کلچر کو یہاں غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔

اس تاریخی عمل کے اثرات آج بھی مختلف صورتوں میں یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً آج بھی کسی مہمان کی آمد پر خوش آمدید کہنا یا رخصتی کے وقت خدا حافظ کہنا براہ راست طور پر فارسی زبان و تہذیب کے اثرات کا نتیجہ ہے۔

اس دور میں فارسی زبان اور کلچر کے جو اثرات ملک کے اوپر پڑے ان میں سے ایک یہ تھا کہ فارسی کے اقوال اور اشعار زبان زد عام ہوگئے۔ خاص طور پر اہل علم کے درمیان عام طور پر یہ حال ہو گیا کہ کسی بھی موقع پر کوئی حکیمانہ بات یا کوئی سبق آموز کلمہ کہنا ہو تو فوراً فارسی کا کوئی ضرب المثل یا کوئی شعر لوگوں کی زبان پر آجاتا تھا۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں صدیوں تک یہ حال رہا ہے کہ نہ صرف کلچر کے پہلوؤں میں فارسی زبان کے اثرات ظاہر ہوئے بلکہ یہاں کی سماجی زندگی میں اخلاقیات کی تشکیل کا ذریعہ سب سے زیادہ فارسی اقوال و امثال بنے رہے۔ مثلاً ایک لمبے زمانے تک یہ حال تھا کہ کسی ہندوستانی گھر میں کوئی مہمان آتا اور اس کے کھانے کے لئے کپڑے کا دسترخوان بچھایا جاتا تو اس کے اوپر یہ فارسی شعر لکھا ہوا ہوتا تھا : شکر بجا آر کہ مهمان تو روز یٔ خود می خورد برخوان تو یعنی شکر ادا کر کہ تمہارا مہمان اپنی روزی کو تمہارے دسترخوان پر کھا رہا ہے۔ اس طرح صدیوں تک فارسی زبان اس ملک میں حکمت ربانی اور اخلاقیات انسانی کی اشاعت کا ذریعہ بنی رہی۔ لوگوں کی سوچ اور ان کا اخلاقی سلوک فارسی کلچر سے غیر معمولی طور پر متاثر رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page