Al-Risala · February 1998 · page 22

ایک تقریر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲

راہ راست بروگر چہ دور است مشک آنست که خود ببوید نه که عطار گوید یک در گیر ومحکم گیر درست راستہ چلو خواہ وہ دور ہو۔ مشک وہ ہے جو خود مہکے نہ کہ عطار کہے۔ ایک دروازہ پکڑو اور جم جاؤ کٹ اور تگ دوڑ کے اکیلے پن سے بچاؤ، اپنی ذاتی زندگی میں سکون پاؤ۔ ٹونگری بہ دل است نہ بہ مال ۵ چاہ کن را چاہ در پیش ۶ آن است جوابش کہ جوابش نہ دہی ۷ گر بہ کشتن روز اول ۸ دیر آید درست آید ۹ شنیدہ کے بود مانند دیدہ ۱۰ جویندہ یابندہ ۱۱ یک من علم را دہ من عقل باید ۱۲ بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال ۱۳ صبر تلخ است ولیکن بر شیریں دارد ۱۴ آن چہ بر خود پسندی بر دیگران مپسند ۱۵ عاقلاں را اشارہ کافی است ۱۶ قطرہ قطرہ دریا گردد ۱۷ جوئندہ یابندہ ۱۸ چہ اکارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی ۱۹ پدرم سلطان بود ۲۰ داشتہ بہ کار آید ۲۱ یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد ۲۲ مرغ زیرک چوں بہ دام افتد تحمل بایدش ۲۳ دولت مندی دل سے ہے نہ کہ مال سے کنواں کھودنے والے کے سامنے کنواں ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جواب نہ دو بلی کو پہلے ہی دن ہلاک کرو جو دیر میں ہوتا ہے وہ درست ہوتا ہے۔ سنا ہوا کب دیکھنے کی طرح ہوتا ہے۔ ڈھونڈنے والا پاتا ہے ایک من علم کے لئے دس من عقل چاہئے۔ بزرگی کا تعلق عقل سے ہے نہ کہ زیادہ عمر سے۔ صبر کڑوا ہے مگر اس کا پھل میٹھا ہے۔ جو چیز اپنے لئے پسند نہ ہو اس کو دوسروں کیلئے بھی پسند نہ کرو عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہے۔ بوند بوند مل کر دریا بنتا ہے۔ ڈھونڈنے والا پاتا ہے۔

عقلمند وہ کام کیوں کرے جس کے بعد شرمندہ ہونا پڑے میرا باپ بادشاہ تھا رکھا ہوا کام آتا ہے میں ایک لمحہ کے لئے غافل ہوا اور سو سال دور ہو گیا۔ ہوشیار چڑیا جال میں پھنس جائے تو اس کو تحمل کرنا چاہئے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page