متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴
متفرق ات سفر
حدیث میں آیا ہے کہ : (السفر قطعة من العذاب فتح الباری ۷۲۸/۳) یعنی سفر عذاب کا ایک جزء ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سفر کوئی بری چیز ہے اور اہل ایمان کو سفر نہ کرنا چاہیے ۔ اس حدیث میں ”عذاب “ دراصل تعب اور مشقت کے معنی میں ہے یہ بات خود روایت کے اگلے الفاظ سے ثابت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ سفر آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے روک دیتا ہے (يمنع أحدكم طعامه وشرابه ونومه) النووی نے اس کی یہی تشریح کی ہے (صحیح مسلم بشر ح النووی) ۶۰/۱۳ ، تعب اور مشقت اسلام کے دوسرے اعمال میں بھی ہے مثلاً روزہ ، حج ، جہاد وغیرہ ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار سفر فرمایا ۔ نبوت سے پہلے آپ نے تجارتی اسفار کیے ، نبوت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ مثلاً دعوتی سفر ، ہجرت کا سفر ، جہاد کا سفر ، حج اور عمرہ کا سفر ، وغیرہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ سفر بے حد اہم چیز ہے۔ اگر وہ صحیح ذہن کے ساتھ کیا جائے تو سفر عین عبادت بن جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت السائحون بتائی گئی ہے ۔ یعنی سفر کرنے والے (التوبہ ۱۱۲)
موجودہ دنیا میں ہر اچھے کام کے ساتھ مشقت جڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح سفر بھی ایک مشقت کا معاملہ ہے مگر کسی چیز کا پرمشقت ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ دراصل مشقت ہی ہے جو کسی عمل میں جان پیدا کرتی ہے۔ مشقت انسان کے دل دماغ کو جگاتی ہے۔ مشقت کے ذریعہ آدمی کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مشقت آدمی کو نئے نئے تجربات تک پہنچاتی ہے اور اس طرح اس کی تخلیقیت میں اضافہ کرتی ہے۔
مجھے اپنی زندگی میں کثرت سے اسفار پیش آئے ہیں ان اسفار کے ذریعہ میں نے بہت کچھ جانا ۔ ان سفروں کے ذریعہ مجھے ”السائحون “ کی اہمیت سمجھ میں آئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا پچاس فی صد حصہ اگر مطالعہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو اس کا بقیہ پچاس فی صد سیاحت اور سفر کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues