Al-Risala · February 1998 · page 25

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵

ذریعہ کت۱۔ بی مطالعہ اگر معلومات کو بڑھاتا ہے تو سفر تجربات میں اضافہ کا ذریعہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ متفرق تاثرات و تجربات یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

ایک صاحب نے کشمیر کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ الجمعیۃ کے زمانہ (۱۹۶۷) سے میں ایک ہی بات کہتا رہا ہوں ۔ وہ یہ کہ کشمیر کا مسئلہ ۱۹۴۷ میں طے ہو چکا۔ اس قسم کے معاملات تاریخی عوامل کے تحت طے ہوتے ہیں۔ اور تاریخی عوامل اس کو قطعی طور پر طے کر چکے ہیں۔ اب غوغائی سیاست یا گن کلچر کے ذریعہ اس فیصلہ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ کشمیر کے لوگ تاریخ کے فیصلہ کو قبول کریں اور موجودہ سیاسی نظام کے تحت تعمیری میدانوں میں اپنا مستقبل بنائیں ۔

۱۹۸۹ میں جب مسلح کشمیری تحریک چلی ، اس کے بعد بھی بار بار میں یہ بات مختلف طریقہ سے کشمیریوں تک پہنچاتا رہا ہوں۔ میڈیا میں اس سلسلہ میں جو کچھ میں نے کہا وہ عام طور پر لوگوں کو معلوم ہے۔ اس کے علاوہ میری ذاتی ڈائری میں بعض نہایت عبرت انگیز اندراجات اس کی بابت موجود ہیں۔

ا مسلح جدوجہد شروع ہونے کے جلد ہی بعد ۱۳ دسمبر ۱۹۸۹ کو کشمیر کے ایک صاحب مجھ سے دہلی میں ملے ۔ یہ مسٹر منظور احمد عرف سیف اللہ محلہ خانیار،سری نگر) تھے ۔ انھوں نے اپنی تحریک کی کامیابی کے بارہ میں نہایت جوش کا مظاہرہ کیا۔ میری ڈائری میں مذکورہ تاریخ کے صفحہ میں ان کے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں : ”کشمیر پانچ سال میں آزاد ہو جائے گا“ کشمیری نوجوان کے ان الفاظ کے نیچے ڈائری میں میں نے اپنی رائے ان لفظوں میں لکھی تھی : ”میں نے کہا کہ یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اس طرح کشمیرکوآزاد کرناممکن نہیں ہے موجودہ حالت میں آزاد کشمیر کی تحریک صرف کشمیر کو برباد کرنے کی تحریک ہے “ ۲- دوسرا واقعہ، ۲۷ جنوری ۱۹۹۲ کا ہے۔ اس روز سری نگر کے ایک اسلام پسند غلام نبی ہاگروایڈوکیٹ مجھ سے دہلی میں ملے ۔ انھوں نے بھی کشمیری تحریک کے مستقبل کے بارہ میں نہایت پر جوش باتیں کیں۔ انھوں نے میری ڈائری میں مذکورہ تاریخ کے تحت اپنے قلم

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page