متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶
سے حسب ذیل الفاظ لکھے: "ہندوستان سے علیحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا، ان شاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا "۔
ان کی اس تحریر کے نیچے ڈائری میں میری رائے ان الفاظ میں لکھی ہوئی ہے: "میرے نزدیک ہندوستان سے علیحدہ ہو کر (بالفرض) جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیریوں کے لیے چوائس ہندوستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے"۔
۱۹۸۹ میں جب کشمیر کے لوگوں نے اپنی مسلح تحریک شروع کی تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ "انڈیا" کے خلاف اپنی تحریک شروع کر رہے ہیں۔ مگر حقیقتاً وہ تاریخ کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، اور تاریخ کے خلاف لڑ کر کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اپنی تحریک کے آغاز میں جو کشمیری امیدوں اور حوصلوں سے بھرے ہوئے نظر آتے تھے، آج وہ مایوسی اور پست ہمتی کا شکار ہو چکے ہیں۔ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا، اور اس کے بدلے میں پایاکچھ بھی نہیں۔
اتنی بے معنی جنگ شروع ہی کیوں ہوئی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آج کل کی جنگ لڑنے والے شروع نہیں کرتے، بلکہ ہمیشہ لڑانے والے شروع کرتے ہیں۔ آج کل مسلمان جگہ جگہ جہاد کے نام پر جو خونیں ٹکراؤ کررہے ہیں اس میں رہ نمایانہ کردار کون ادا کر رہا ہے۔ یہ وہ دانشور ہیں جو دور اپنے دفتروں میں بیٹھ کر اشتعال انگیز مضامین لکھتے ہیں۔ وہ لیڈر ہیں جو دوسرے ملکوں میں بیٹھ کر تیز و تند بیانات دیتے رہتے ہیں، وغیرہ۔ یہ سب جدید کمیونی کیشن اور میڈیا کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ پہلے زمانہ میں لڑانے والے کو بھی لڑنے والوں کے ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ اب نئے ذرائع کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ لڑانے والا دور سے صرف الفاظ لکھ کر اور بول کر جہاد کا کریڈٹ لیتا رہے ۔ جنگ اور ٹکراؤ کے نقصان سے وہ بھی محفوظ رہے اوراس کے بچے بھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر مسلم قائدین پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں کسی قائد پر کبھی ذاتی تنقید نہیں کرتا۔ میں صرف ان کی عملی پالیسی پر تنقید کرتا ہوں۔ موجودہ زمانہ کے قائدین نے تقریباً بلا استثناء ایسا کیا ہے کہ انھوں نے ملت کو ایسی راہوں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues