متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷
میں دوڑا دیا جس کا نتیجہ تباہی کے سواکچھ اورنکلنے والانہ تھا۔ یہی آج ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ ہر جگہ نا اہل مسلم قائدین یہی کر رہے ہیں۔ وہ تباہی و بربادی کے نقیب بنے ہوئے ہیں، پھر کیوں نہ ان پر تنقید کی جائے ۔
میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان شر الرّعاء الحطمة (صحیح مسلم، کتاب الامارة) حطم کے معنی ہیں چور چور کر دینا۔ حطمہ اسی کا اسم مبالغہ ہے۔ یعنی سب سے برا چرواہا (قائد) وہ ہے جو لوگوں کو چور چور کر دینے والا یا کچل دینے والا ہو۔
اس حدیث کا ایک مصداق وہ حاکم ہیں جو اپنے اقتدار کا غلط استعمال کر کے لوگوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا مصداق وہ قائدین ہیں جو بھڑکانے والے نعرے اور جذباتی اقدامات کے ذریعہ مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر طاقتور گروہوں سے لڑا رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں مسلمان یک طرفہ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے تمام قائدین پر فرض تھا کہ وہ چپ رہیں ، وہ قوم کو ٹکراؤ کے راستہ پر نہ لے جائیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جو ہر جگہ مظالم کا شکار ہو رہے ہیں، اس کو عام طور پر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ دشمنوں کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ انھیں نا اہل قائدین کے غلط اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ تمام قائدین ان شر الرّعاء الحطمة کا مصداق ثابت ہوئے ہیں ۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے گفتگو ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمیں پچاس سال ملے مگر آزادی کے بعد ملک کی تعمیر کا جو کام ہونا تھا وہ نہ ہوسکا۔ آزاد ہندوستان ایک تباہ ہندوستان بنا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد ہمیں ایک اور گاندھی کی ضرورت تھی جو ہمیں نہ مل سکا۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ۔ یہ دوسرا گاندھی بھی ہم کو ملا مگر وہ کچھ کر نہ سکا۔ ۱۹۴۷ کے بعد بھی مہاتما گاندھی ایک عرصہ تک زندہ رہے مگر وہ نئے ہندوستان میں بے اثر ہوگئے ۔ حتیٰ کہ خود انھوں نے کہا کہ اب میری کون سنے گا ۔ انگریز مخالف سیاست میں گاندھی کامیاب تھے مگر ہندوستان موافق سیاست میں گاندھی ناکام ہوگئے، منفی سیاست سب سے زیادہ آسان کام ہے، اور مثبت سیاست سب سے زیادہ مشکل کام ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues