متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۲۸
ایک صاحب سے موجودہ زمانہ کی مسلم دنیا کے حالات پر گفتگو ہوئی ہے۔ آج کل ساری مسلم دنیا میں بے فائدہ ٹکراؤ اور بے معنی لڑائی عام ہے۔ ہر مسلمان اس کو جہاد کے نام پر لڑ رہا ہے۔ یہ سب تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ تعلیم سے میری مراد صرف دینی تعلیم نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے عصری تعلیم بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ مسلمان اس حدیث کا مصداق بن سکیں : و من يكون بصيراً بزمانه ۔
ایک بار مسٹر رام جیٹھ ملانی کی رہائش گاہ (نئی دہلی) پر ایک میٹنگ تھی۔ اعلیٰ طبقہ کے کچھ ہندو شریک تھے ۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ ایک صاحب نے پیغمبر اسلام کے بارہ میں کہا کہ وہ امی تھے۔ رام جیٹھ ملانی نے فوراً جواب دیا : وہ امی تھے یا نہیں تھے، یہ الگ بات ہے۔ مگر میں تو یہ جانتا ہوں کہ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو اس وقت تک تاریخ میں کسی نے نہیں کہی تھی۔ انھوں نے کہا : عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔ ۱۲ اپریل کو آغا سید برہان الدین شاہ صاحب کے یہاں صبح کی چائے تھی۔ ان کے جدا مجد ۱۸۶۴ میں افغانستان سے ہندوستان آئے تھے۔ انھوں نے کوہ نور ہیرے کا قصہ بتایا۔ اس کی تاریخ اگرچہ اختلافی ہے ۔ تاہم عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ایران کے نادر شاہ نے جب ۱۷۳۹ میں دہلی کو لوٹا تو وہ کوہ نور کو بھی اپنے ساتھ لے گیا ۔ اس کی موت کے بعد وہ اس کے فوجی سردار احمد شاہ درانی (افغانستان) کو ملا اور اس کے بعد شاہ شجاع کو۔ انھوں نے بتایا کہ شاہ شجاع کوہ نور کو ہمیشہ اپنی پگڑی کے اندر رکھتا تھا۔ ایک بار مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے یہاں شاہ شجاع اور دوسرے والیان ریاست کو مدعو کیا۔ جب سب لوگ آکر بیٹھ گئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کہا : آج میں شاہ شجاع کا دستار بدل بھائی بنوں گا۔ شاہ شجاع نے کہا کہ اسے کور چشم، میں جانتا ہوں کہ تو کیا چاہتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی دستار سے ہیرا نکالا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کو دے دیا۔ ۱۸۴۹ میں جب پنجاب کو برٹش انڈیا میں ملا دیا گیا تو اس کے بعد رنجیت سنگھ کے لڑکے دلیپ سنگھ کوہ نور کو لے کر لندن گئے۔ وہاں انھوں نے اس کو ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ تاج برطانیہ کا حصہ ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues