متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰
الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ میں برابر الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مگر آپ کی ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ ہمیشہ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں آخر صبر کب تک۔ میں نے کہا کہ میں بھی آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ قرآن و حدیث میں بار بار نماز پڑھنے کے لیے کہا جاتا ہے آخر یہ نماز کب تک۔ انھوں نے کہا کہ نماز تو ایک عبادت ہے اور اس کو آخردم تک ادا کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی میرا جواب صبر کے بارہ میں ہے۔ صبر بھی ایک عبادت ہے اور اس کو آخردم تک انجام دینا ہے۔ اسی لیے قرآن میں صبر اور نماز کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ غدر کی غیر منصوبہ بند اور تیاری کے بغیر لڑائی ۱۸۵۷ء کے آغاز میں بیرک پور اور برہم پور (بنگال) سے شروع ہوئی۔ تاہم انگریزوں نے بہت جلد اس کو دبا دیا۔ اس کے بعد ۱۰ مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ چھاؤنی کے ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی۔ وہ ہتھیار لے کر نکل پڑے۔ یہاں کے انگریز افسروں کو مارا۔ ان کے گھر جلا دیے، وغیرہ۔ تاہم انگریز جو زیادہ بہتر سازو سامان سے مسلح تھے، نیز وہ ٹیلی گراف کا نظام بھی قائم کر چکے تھے، انھوں نے دوسرے مقامات سے فوج بلا کر بغاوت کو کچل دیا، اور دہلی کی بہادر شاہ ثانی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا جن کے نام پر بغاوت کی گئی تھی۔ یہ بغاوت، برعکس طور پر، ہندوستان میں انگریزوں کے اقتدار کو زیادہ مستحکم کرنے کا ذریعہ بن گئی۔
اس کے بعد انگریزوں نے یہاں ۱۸۹۲ میں میرٹھ کالج قائم کیا۔ اس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ لوگوں کا ذہن جنگ جوئی سے ہٹا کر تعلیم کی طرف موڑ دیا جائے ۔ تاہم انگریزوں کا مقصد جو بھی ہو، اس علاقہ کے لوگوں کے لیے یہ ایک قیمتی موقع تھا۔ مگر اس وقت یہاں کے لوگ، خاص طور پر مسلمان، انگریزوں کے خلاف نفرت کی نفسیات میں مبتلا تھے، چنانچہ وہ اس تعلیمی موقع کی طرف راغب نہ ہو سکے۔ مسلمان اگر نفرت کے احساسات سے آزاد ہوتے اور ۱۸۹۲ میں قائم ہونے والے اس تعلیمی ادارہ سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تو یقینی طور پر آج اس علاقہ کی تاریخ دوسری ہوتی۔
زندگی کا ایک راز وہ ہے جو ایک قول میں اس طرح کہا گیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ وہ چین میں ہو ( ہو(اطلبواالعلم ولوکان بالصين) اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کے پاس بھی سارے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues