Al-Risala · February 1998 · page 31

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱

مواقع نہیں ہوتے ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے قیمتی مواقع دوسروں کے پاس، حتی کہ دشمنوں کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں عقل مندی یہ ہے کہ اپنے اور غیر یا دوست اور دشمن کی تقسیم سے اوپر اٹھ کر ہر اس موقع کو استعمال کیا جائے جو ممکن اور قابل حصول ہو۔ خود سنت رسولؐ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً ہجرت کے سفر میں آپؐ نے مکہ کے ایک مشرک (عبد اللہ بن اریقط) کو اپنا رہ نما بنایا۔ جنگ بدر کے مشرک قیدیوں کے ذریعہ مدینہ کے مسلم بچوں کو تعلیم دلوائی۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، جہاں وہ اس کو پائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے ((الكلمة الحكمة ضالة المومئن فاين وجدها فهو احق بها) الترمذي ،كتاب العلم جو لوگ اس حکمت حیات کو جانیں وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اس حکمت سے بے خبر ہوں ان کے لیے خدا کی اس دنیا میں جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ انسانی قافلوں سے پچھڑجائیں۔ اوراس کے بعد اپنے پچھت بے پن کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے لیے لفظی احتجاج کا طوفان برپا کریں جس کو سننے کے لیے بھی وہاں ان کے سوا کوئی شخص موجود نہ ہو۔

میرٹھ کے بارہ میں آپ کوئی معلوماتی کتاب پڑھیں تو اس میں لکھا ہوگا کہ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی بغاوت کا آغاز نمایاں طور پر میرٹھ سے ہوا :

The initial uprising of the 1857 Indian Mutiny occurred there. (VI/753)

یہ واقعہ جس کو ہندوستانیوں نے ریولٹ کا نام دیا اس کو انگریزوں نے میوٹنی کہا تھا۔ میوٹنی اور ریولٹ میں بہت فرق ہے۔ ریولٹ وہ ہے جس میں پوری قوم شامل ہوجائے۔ اس کے مقابلہ میں میوٹنی چھوٹے درجے کی باغیانہ شورش کو کہا جاتا ہے ، جیسے سمندری جہاز کا عملہ اپنے کیپٹن کا باغی ہوجائے ۔

۱۸۵۷ء کی شورش کو انگریزوں نے میوٹنی کہا تو کچھ ہندوستانی اس پر غصہ ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی جنگ آزادی کو میوٹنی کہنا ایک سازش ہے تاکہ اس کی اہمیت کو گھٹایا جا سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page