متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲
مگر یہی جنگ آزادی جب مہاتما گاندھی کی قیادت میں چلائی گئی تو انگریزاس کو میوٹنی نہ کہہ سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”سازش“ کی ایک حد ہے۔ جب معاملہ اس حد سے گزر جائے تو اس کے خلاف کوئی سازش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
تقریبا چالیس سال پہلے میری ملاقات میرٹھ کے ایک مسلمان سے ہوئی تھی۔ وہ لمبے قد کے شاندار شخصیت کے آدمی تھے، مگر وہ دونوں آنکھوں سے اندھے ہو چکے تھے۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں وہ فوج کو انڈاسپلائی کرنے کا کام کرتے تھے۔ وہ دیہاتوں سے انڈے منگاتے تھے، روزانہ بہت سے انڈے ٹوٹے ہوئے نکلتے تھے، انھوں نے ان انڈوں کو پھینکنا پسند نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ خود انھیں کھانے لگے۔ روزانہ صبح سے شام تک وہ تقریبا پچاس انڈے کھا جاتے تھے۔ تھے۔ ابتداء انھیں فائدہ محسوس ہوا۔ مگر اس غیر فطری خوراک کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ وہ مکمل طور پر اندھے ہو گئے۔ انڈا عام حالت میں ایک صحت بخش غذا ہے۔ مگر اس کی زیادتی ہلاکت خیز ثابت ہوتی ہے۔ یہی معاملہ ہر چیز کا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اعتدال اور توسط کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ ہر معاملہ میں صحیح طریقہ وہی ہے جو فطری طریقہ ہو، اور فطری طریقہ ہمیشہ اعتدال کا طریقہ ہوتا ہے۔
میرٹھ کے ایک صوفی شاعر وارث میرٹھی تھے ۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ نومبر، ۱۹۴۷ میں پاکستان چلے گئے ۔ ان کے صاحبزادے مظفر وارثی کا ایک انٹرویو قومی آواز (۲۸ اپریل ۱۹۹۶) میں چھپا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پروفیسر طاہر القادری نے جب نظام مصطفوی کا نعرہ لگایا تو میں اپنی کشتیاں جلا کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا ۔ ان کے لیے میں نے اسٹیٹ بینک کی ملازمت بھی چھوڑ دی ۔ مگر ان کو قریب سے دیکھ کر میں بہت مایوس ہوا ۔ وہ کسی بھی معاملہ میں فیئر نہیں، سیاست میں بھی نہیں۔ پھر انھوں نے کہا کہ ”طاہر القادری سے اپنے ہزار اختلاف کے باوجود میں ضرور کہوں گا کہ اس جیسا مقرر پورے برصغیر میں نہیں“ ۔ یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا اصل المیہ ہے۔ لاجواب مقرر دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues