Al-Risala · February 1998 · page 33

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

لفظوں میں صرف لا جواب لفظ ہوتا ہے ، اور لفاظ قسم کے لوگ کبھی کوئی صحیح عملی رہ نمائی نہیں دے سکتے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ہر جگہ یہی کیا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد کو اپنا قائد بنایا جو لا جواب مقرر یا لا جواب شاعر یا لا جواب انشاء پرداز تھے۔ پچھلے سوسال میں ساری مسلم دنیا میں ایک بھی ایسی مثال نہیں کہ حکمت و تدبر والے کسی شخص نے مسلمانوں کے درمیان قیادت کا مقام حاصل کیا ہو۔ مقرر اور شاعر اور انشاء پرداز قسم کے لوگ تدبر یا گہری سوچ سے خالی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ یہی کر سکتے ہیں کہ جذباتی الفاظ بول کر قوم کو ایسے خیالی راستوں کی طرف دوڑا دیں جس کا کوئی انجام نکلنے والا نہ ہو، اور انھوں نے یہی کام انجام دیا۔ یکم مئی ۱۹۹۶ کو میرٹھ میں ایک واقعہ ہوا۔ روز نامہ عوام (دہلی) کے نمائندہ مسٹر کامران زبیری کی رپورٹ کے مطابق، اس کی تفصیل یہ ہے :

" تھانہ کوتوالی علاقہ میں آج دوپہر آپسی رنجش کے تحت ایک شخص نے اپنے ہی پڑوسی کو چاقوؤں سے گود کر جان سے مار ڈالا، جس سے علاقہ میں تناؤ کا ماحول بن گیا اور اس حادثه کو فرقہ وارانہ سمجھ کر بازار بند ہو گئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق محلہ محل والا کے رہنے والے عقیل نے اپنے پڑوسی شیر افگن کو چاقوؤں سے گود دیا جس سے موقع پر ہی اس کی موت ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ چاقو لگنے کے بعدشیرافگن بھاگتاہواپڑیوں کے محلے میں پہنچا، وہاں اس نے دم توڑ دیا۔ غیر مسلم محلے میں مرنے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش میں یہ افواہ اڑا دی کہ ایک مسلمان کو ہندوؤں نے مار دیا، جس سے علاقہ میں زبردست کشیدگی پھیل گئی اور ذراسی دیر میں سبھی بازار بند ہو گئے۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ریپڈایکشن فورس کے جوان فورا ہی موقع پر نہ پہنچ جاتے اور عقیل کو گرفتار نہ کر لیتے تو یہاں فساد تک ہونے کا اندیشہ تھا کیوں کہ مارنے والا ہندو بتایا جا رہا تھا۔ اس حادثے کے بعد شاہین پروویز اور اظہار منظور نے علاقہ میں پہنچ کر لوگوں کی غلط فہمی کو دور کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ شیر افگن کی ایک بہن کی شادی ۷ مئی کو دہلی میں ہونی تھی اور گھر کے دوسرے سبھی افراد پہلے ہی دہلی روانہ ہو چکے تھے لیکن وہ یہاں سے ایک ٹیپ ریکارڈر ٹھیک کروانے کے لیے رک گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page