متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴
ان لوگوں میں آپس میں رنجش کسی لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملے کو لے کر تھی علاقہ میں زبردست کشیدگی کو دیکھتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے اور پولیس وانتظامیہ کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ حالات قابو میں ہیں ۔
فسادات بیشتر حالات میں غلط فہمی کی بنا پر ہوتے ہیں۔ غلط فہمی اور افواہیں بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ جاتی ہیں جہاں معاملہ پولیس اور انتظامیہ کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ اور پھر وہ الم ناک صورت حال پیش آتی ہے جس کو فساد کہا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ کوئی واقعہ پیش آتے ہی فوراً مقامی ذمہ داران حرکت میں آجائیں تو واقعہ ایک حد پر رک جائے گا اور سرکاری انتظامیہ کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اس کو کنٹرول کر سکے ، جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں پیش آیا۔ کان پور کے جناب نیاز احمد صاحب (607437 .Tel) نے ۱۶ دسمبر، ۱۹۹۶ء کی ایک ملاقات میں کہا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ ہمارے لیے پولیس یاپی۔ اے ۔ سی کا کوئی مسئلہ نہیں جیسے ہم انسان ہیں ویسے ہی وہ بھی انسان ہیں ۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے کچھ پرجوش نوجوان خود اپنی نادانی سے ان کو غیر ضروری طور پر اپنا دشمن بنا لیتے ہیں۔ مثلاً وہ دیواروں پر لکھ دیں گے کہ پی۔ اے ۔ سی مُرده باد ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے نعروں کے بعد ان کے دل میں ہمارے لیے ہمدردی کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے اپنا تجربہ بتایا کہ پچھلے عید کے موقع پر حسب معمول ان کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ ہمارے محلہ میں ایک جگہ تقریباً چھپی اے سی کے جوان ڈیوٹی پر تھے۔ میں نے یہ کہا کہ عید کے دن ایک ٹرے میں سویاں وغیرہ رکھ کر ان کے پاس گیا اور کہا کہ یہ ہماری طرف سے آپ لوگوں کے لیے عید کا تحفہ ہے۔ اس سے وہ لوگ اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ وہ منظر نظر آنے لگا جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوا ہے ـــــــــ پس تمہارے اور جس کے درمیان بظاہر عداوت ہے وہ ایسا ہو جائے گا جیسا کہ تمہارا کوئی قریبی دوست (حم السجدہ ۳۴)
اس کے بعد ان پولیس والوں کا یہ حال ہوا کہ جب وہ مجھ کو دیکھتے تو فوراً ادب کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ چاچا جی، ہمارے لائق کوئی کام ہو تو بتائیے ہم آپ کی سیوا میں ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues