Al-Risala · February 1998 · page 35

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵

میلہ نوچندی میگزین، میرٹھ، ۱۹۹۳ میں ایک نوجوان کی موت کا واقعہ پڑھا اس کا عنوان یہ تھا: آفریں طارق ارشد شہید، ناموس انسانیت۔ کئی صفحہ کے اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ :

" ۲۲ سال طارق ارشد نے میرٹھ کے فساد ۱۹۹۰ میں اپنی جان قربان کردی۔ طارق ارشد کا جرم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ فساد کے دوران اس نے اپنے پڑوسی غیرمسلموں کو اپنی جان پر کھیل کر ان کو موت سے بچایا تھا۔ اور جب ایک مسلم نوجوان جس کو غیرمسلم فسادیوں نے شہید کر دیا تھا اور اس کی لاش مسلم نوجوان اٹھاکر لے گئے تھے، طارق نے لاش حاصل کرنے کے لیے پولیس کو طاقت کے استعمال سے روک دیا، اور مسلمانوں سے لاش کو پولیس کے سپرد کرنے کو کہا۔ اس پر مشتعل ہوکر یہ کہتے ہوئے کہ اس نے تین کافروں کو بچایا ہے، طارق کے فرقہ کے لوگوں نے ہی اس کو چاقو مار کر شہید کر دیا۔ یہ ایک اہم واقعہ ہے۔ لیکن میگزین میں اس کو بالکل غیر واضح اور ادبی اسلوب میں بیان کیا گیا تھا جس کا اندازہ اوپر کے اقتباس سے ہو رہا ہے۔ ضرورت تھی کہ اتنے اہم واقعہ کو خالص واقعاتی اور تاریخی انداز میں بیان کیا جائے تاکہ اس کا بھرپور فائدہ حاصل ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان جب تک شاعروں اور ادیبوں کے سحر سے باہر نہیں آئیں گے، ان کی زبان جدید معیار کے مطابق ترقی نہیں کر سکتی۔

میگزین میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تحریر نقل کی گئی تھی۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر میری یہ قطعی رائے تھی جس پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبران کی اکثریت کو اتفاق تھا کہ اگر برطانیہ یہ مان لے کہ جنگ کے بعد ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی تو ہم لڑائی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ گاندھی جی کو اس سے سخت اختلاف تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم ایسی آزادی لینا ہی نہیں چاہتے جو لڑائی کے سایہ میں ہم کو ملے۔ اس لیے وہ کسی طرح بھی لڑائی میں شرکت کے لیے تیار نہ تھے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تجاویز کا ڈرافٹ گاندھی جی ہی بنایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس مرتبہ بھی اپنے اس ریزولیوشن کا ڈرافٹ بنوانے کے لیے میں اور پنڈت نہرو گاندھی جی کے پاس گئے۔ انھوں نے اپنے پورے اختلاف کے باوجود اس تجویز کا ڈرافٹ بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page