Al-Risala · February 1998 · page 36

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶

اسی کا نام اختلاف کے با وجود احترام کرنا ہے۔ اور کوئی بڑا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جن میں ایک دوسرے کے بارہ میں یہ اعلیٰ اخلاقی صفت پائی جائے۔

میلہ نو چندی میگزین میں میرٹھ کی بہت سی شخصیتوں کا تعارف تھا۔ ان میں سے ایک عجیب قصہ یہ تھا کہ ہر دواری لال تیاگی یہاں کے ایک سیدھے سادے آدمی تھے ، تحریک آزادی میں انھوں نے موثر حصہ لیا تھا۔ آزادی کے بعد انھوں نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی تھی۔ ایک دن یہ کہہ کر کہ زیادتی عمر میں اب نہ زندہ رہنا ملک و قوم پر ایک بوجھ ہے ، کمر سے اینٹیں باندھ کر اپنے گھر کے کنویں میں گر گئے“۔ تاہم میگزین میں اس واقعہ کی کوئی تاریخ درج نہیں تھی۔

میرٹھ کے محمدیامین صاحب پرانے کانگریسی رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی میں ۱۹۴۹ میں جب اجودھیا کی بابری مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں اور پھر عدالت کے حکم سے مسجد میں تالا لگا دیا گیا تو مولانا آزاد نے کچھ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”بابری مسجد کے مسئلہ کو عدالت کے ذریعہ طے کرایا جانا چاہیے، اس کو سڑکوں پر لانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا “ مولانا آزاد کا یہ مشورہ نہایت صحیح تھا۔ مگر اسی کے ساتھ مولانا آزاد کو جاننا چاہیے تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت نہایت جذباتی ہے۔ کوئی بھی غیر ذمہ دار لیڈر جذباتی تقریریں کر کے انھیں سڑکوں پر لاسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت تھی کہ فکر و شعور میں اصلاح کی ایک مستقل مہم چلا کر مسلمانوں کو حقیقت پسند بنایا جائے تاکہ مفاد پرست افراد جھوٹے الفاظ بول کر انھیں گمراہ نہ کر سکیں۔ مگر مولانا آزاد یا ان کے ساتھیوں نے تعمیر شعور کی یہ مہم نہیں چلائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مشورہ ہندوستانی مسلمانوں کی عملی پالیسی نہ بن سکا۔

مولانا آزاد کا مشورہ اصولی طور پر بالکل درست تھا۔ ۱۹۴۷ کے بعد اسی ملک میں بہت سی ناجائز قبضہ والی مسجدوں کو عدالت کے ذریعہ واگزار کرانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے پھر بابری مسجد کے معاملہ میں ناکامی کیوں ہوئی ، اس کا سبب دراصل اسی فطری طریقہ سے انحراف تھا۔ بابری مسجد کا مسئلہ بھی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ مگر اسی کے ساتھ کچھ سطحی لیڈر اس کو سڑکوں پر نکال لائے۔ ابتداً یہ مسئلہ ایک قصبہ کے کچھ ہندوؤں اور کچھ مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ مگر جب اس کو نعروں اور جلسوں کی دھوم مچا کر پورے ملک کا مسئلہ بنایا گیا تو وہ پورے ملک کی ہندو اکثریت اور

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page