متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
مسلم اقلیت کا مسئلہ بن گیا ۔ اس طرح اس مسئلہ کی نزاکت غیر متناسب طور پر بہت زیادہ بڑھ گئی ۔ نااہل مسلم لیڈروں کی یہی بدترین نادانی ہے جس نے وہ حالات پیدا کیے جب ۶ ۶؍دسمبر۱۹۹۲ء کو ایک ہجوم جمع ہوا، جو دھیا میں داخل ہو جائے اور وہ بابری مسجد کو توڑ ڈالے۔ اس علاقہ میں خورجہ کے پاس ایک گاؤں ہے ۔ اس کانام جاچاہ ہے یہاں ایک سید ظل حسنین رضوی تھے ۔ ان کا خاندان تقسیم کے بعد پاکستان چلا گیا ۔ پاکستان بننے سے چند دن پہلے ان کے چھوٹے بھائی جاچاہ سے دہلی گئے اور وہاں سے ایک گراموفون خرید لائے ۔ ان کی والدہ اس پر بہت خفا ہوئیں ، انھوں نے کہا کہ لوگ تو گھر بار چھوڑ کر پاکستان جا رہے ہیں اور تم گراموفون خرید لائے ہو۔ بھائی نے کہا کہ ہم لوگ جب پاکستان جائیں گے تو اس کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے ۔ والدہ نے بگڑ کر کہا کہ پاکستان تو پاک جگہ ہے۔ وہاں کیا گراموفون بجائے جائیں گے وہاں تو ہر طرف اللہ اللہ ہوا کرے گا ۔
ایک عام مسلمان کے ذہن میں اس وقت پاکستان کا یہی تصور تھا۔ کیوں کہ مسلم لیگ نے ہر طرف یہ شور برپا کر رکھا تھا : پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ موجودہ پاکستان میں اللہ کے نغمے گم ہو گئے ۔ ہر طرف بس غیر اللہ کے ہنگامے جاری ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے ۔
لاہور کے پروفیسر محمد اسلم جنھوں نے اپنے پڑوسی سید ظل حسنین رضوی سے سن کر یہ قصہ لکھا ہے ۔ وہ پاکستانی تحریک کے اس برعکس انجام کی توجیہہ اس طرح کرتے ہیں :
” ہوا یوں کہ قیام پاکستان کے موقع پر ایک اسپیشل ٹرین مرکزی حکومت کے مسلم افسروں کو لینے کے لیے دہلی بھیجی گئی ۔ جب وہ ٹرین وہاں پہنچی تو معلوم ہوا کہ مسلم افسر بذریعہ ہوائی جہاز کراچی روانہ ہو چکے ہیں۔ ٹرین کے منتظمین نے کراچی سے رابطہ قائم کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ ٹرین اسے بخاری (م ۱۹۰۵) ڈائرکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کی یہ دلی خواہش ہے کہ وہ ٹرین خالی واپس لانے کے بجائے دہلی اور یوپی سے موسیقاروں، میراثیوں، طبلہ نوازوں، طوائفوں اور ربابیوں کو پاکستان لے آئے۔ چنانچہ بخاری صاحب کی خواہش پر اس ٹرین میں یہ فن کار پاکستان تشریف لے آئے ۔ اور پھر انھوں نے وہ ادھم مچایا کہ الامان والحفیظ ۔ سید ظل حسنین رضوی کی والدہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues