متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸
پاکستان میں جو پاکیزہ آوازیں سنا چاہتی تھیں وہ طبلوں کی تھاپ اور گھنگھْروں کی جھنکار میں دب کر رہ گئیں (سفرنامہ ہند، مطبوعہ لاہور ۱۹۹۵، صفحہ ۵۱۵)
کیسی عجیب بات ہے کہ جس پاکستان کو مفکر اعظم علامہ اقبال نے سوچا اور اس کو ملت اسلامیہ ہند کے مسائل کا حل بتایا۔ اور جس کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تمام مہارت استعمال کرکے بنوایا، وہ خود بانیٔ پاکستان کی زندگی ہی میں اتنا کمزور نکلا کہ چند غیر معروف فن کاروں نے اس کو بالکل تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ یہ واقعہ زید اسے بخاری کی شخصیت کو داغدار نہیں کرتا بلکہ وہ خود مفکر اعظم کی فکر اور قائد اعظم کی قیادت کو مشتبہ قرار دے رہا ہے۔
عوام اور رہنما میں یہ فرق ہے کہ عوام آج کو دیکھتے ہیں اور رہنما کل کو دیکھتا ہے۔ عوام صرف ان باتوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان وہ بروقت گھیرے ہوئے ہیں۔ اور رہنما اپنی برتر صلاحیت کی بنا پر ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ وہ حالات سے اوپر اٹھ کر وسیع تر دنیا کو دیکھ سکے۔ عوام چیزوں کو صرف اپنی پیشانی کی نظروں سے دیکھ پاتے ہیں۔ مگر جورہنما ہے اس کی بصیرت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو عام لوگ دیکھ نہیں پاتے ان کو بھی وہ اپنی اندرونی نگاہ سے جان لیتا ہے۔
اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ رہنما کے عمل کو حال کے اعتبار سے نہیں بلکہ مستقبل کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے۔ یہ دراصل بعد کو پیش آنے والے حالات ہیں جو بتاتے ہیں کہ رہنمائی درست تھی یا نہیں۔
سماجی یا قومی زندگی میں جب کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو وہ اقدام اگرچہ حال میں کیا ہوا عمل ہوتا ہے مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں نکلتا ہے۔ اس لیے کسی اقدام کی صحت کو جانچنے کا معیار مستقبل ہے نہ کہ حال۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں مگر آپ کو کسی کے اوپر تنقید نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ بات آپ اپنی عقل سے کہہ رہے ہیں، مگر قرآن و حدیث میں اس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ۔ اسلام کے دور اول میں تنقید عام تھی اور کوئی برا نہیں مانتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کو برا ماننا قومی زوال کی علامت ہے، اور تنقید کو خوش دلی کے ساتھ سننا قومی عروج کی علامت۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues