متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹
حدیث میں آیا ہے کہ : المومن مرآۃ المؤمن (سنن ابی داؤد ۲۸۱/۳) یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہے ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنّ الدین النصیحۃ (۲۸۸) یعنی دین نصیحت ہے ۔
ایک آدمی کے اندر جب اسلام کی سچی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کا خیر خواہ بن جاتا ہے ۔ اسی خیر خواہی کا نام نصیحت ہے۔ اس خیر خواہی کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آئینہ کی مانند ہو جائے ، وہ دوسروں کو ان کی واقعی حیثیت سے آگاہ کرتا رہے۔
دوسروں کو فہمائش کرنااگردوسروں کوکمتردکھانے کے لیے ہو اور اس لیے ہو کہ دوسروں کے اوپر اپنی برتری ظاہر کی جائے تو یہ ایک گناہ کا فعل ہے اور اس پر خدا کی طرف سے سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے اگرفہمائش کامقصد دوسرے کی خیر خواہی اور سچی اصلاح ہو تو یہ ایک عظیم ثواب کا کام ہے ۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو ڈاکٹر رفیق زکریا کی انگریزی کتاب ” بڑھتی ہوئی تفریق“ پڑھے ہوئے تھے۔ یہ کتاب ۱۹۹۵ میں پینگوین بکس انڈیا کی طرف سے چھپی ہے : The Widening Divide An insight into Hindu-Muslim relations انھوں نے کہا کہ مصنف نے اس کتاب میں آپ کی بابت یہ لکھا ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ آپ کا قریبی ربط (close association) ہے اور اس بنا پر آپ مسلمانوں کے درمیان ایک مشتبہ شخصیت بن گئے ہیں (صفحه ۲۷۵) انھوں نے کہا کہ میں آپ کا رسالہ پڑھتا ہوں مگر اس میں آپ نے اس تبصرہ کی بابت کچھ نہیں لکھا۔
میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت سطحی تبصرہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کے معیار کو بتاتا ہے۔ آپ دیکھیے ۔ اس کتاب کو انھوں نے نام لیے بغیر مہاتما گاندھی (اور نہرو) کے نام ڈیڈیکیٹ کیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انھوں نے ہندو مسلم یونٹی کے لیے بہت کام کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ میں بھی اسی ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کر رہا ہوں۔ مگر عین اسی کام
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues