متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰
کے کرنے پر انھوں نے مجھ کو یہ انعام دیا کہ مجھ کو آر ایس ایس کے ساتھ بریکٹ کر دیا۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے کہ گاندھی اگر ہند و مسلم اتحاد کے لیے مسلمانوں سے ملیں تو وہ قابل تعریف ہیں ۔ اور میں اگر اسی اتحاد کی خاطر ہندوؤں کے مختلف طبقات سے ملوں تو مجھ کو ایک بدنام جماعت کے ساتھ وابستہ کر کے مجھے ایک مشتبہ شخصیت ظاہر کیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہی آج تمام دانشوروں کا حال ہے۔ کیا ایسی پست دانشوری سے لوگوں کو کوئی صحیح اور مثبت رہ نمائی مل سکتی ہے ۔
ایک صاحب نے پوچھا کہ دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ ۔ میں نے کہا کہ دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ، یہ ایک قانونی اور منطقی سوال ہے۔ زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ دعوت سب سے بڑا ثواب کا کام ہے ۔ آدمی کی یہ فطرت ہے کہ جس چیز میں زیادہ نفع ہو ادھر وہ فوراً دوڑتا ہے ، اس کے بارہ میں قانونی بحثیں نہیں کرنا۔ پھر دعوت ہی کے معاملہ میں آپ کیوں اس قسم کے فنی اور قانونی سوالات اٹھارہے ہیں ۔
ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ حکومت و اقتدار اسلام میں مطلوب نہیں ہے بلکہ موعود ہے ۔ وہ عالم تھے ، اس لیے سمجھ گئے کہ میرا اشارہ قرآن کی آیت (النور ۵۵) کی طرف ہے۔ مگر جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے : وکان الانسان اکثر شیئ جدلا ، انھوں نے فوراً ہی اس کی تردید کے لیے ایک لفظ پالیا ۔ انھوں نے کہا : حکومت اگر مطلوب نہیں ہے تو متروک بھی تو نہیں ہے ۔
میں نے کہا کہ حکومت جب مطلوب شئے نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اسلامی تحریک کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اور جو چیز نشانہ تحریک نہ بن سکے وہ اس اعتبار سے متروک ہی قرار پائے گی ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ دور میں بہت سے نئے فتنے اٹھے۔ مثلاً انکار حدیث کا فتنہ ، نئی نبوت کا فتنہ ، وغیرہ ۔ مگر میرے نزدیک دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ وہ ہے جس کو مکمل اسلام کہا جاتا ہے ۔ بقیہ تمام فتنے ننگے فتنے تھے ، اس لیے ان کو پہچاننا آسان تھا۔ مگر وہ فتنہ جو مکمل اسلام قائم کرو کے نعرہ کے ساتھ اٹھا وہ ایک نقاب پوش فتنہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues