Al-Risala · February 1998 · page 41

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱

چنانچہ بہت سے علماء تک اس کے سحر میں مبتلا ہوگئے ۔

نام نہاد مکمل اسلام نے موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ دینی نقصان پہنچایا ہے ۔ اسلام میں سارا فوکس تقویٰ پر ہے۔ مگر اس نظریہ نے سارا فوکس سیاست کی طرف کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو اندر سے بالکل خالی تھے مگر بیرونی طور پر وہ سیاسی الفاظ کا جنگل بنے ہوئے تھے۔

مکمل اسلام کے اس نظریہ نے تمام مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر حکمراں طبقہ میں بانٹ کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف لڑا دیا۔ اس کے نتیجہ میں مسلم ملکوں کے بہترین مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔

پھر اسلام کی یہ سیاسی تعبیر اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا عمل غیر مسلموں کو اسلام سے بھڑکانے کا سبب بن گیا۔ انھوں نے سمجھا کہ اسلام کوئی جنگ جو مذہب ہے جو ساری دنیا کے خلاف لڑائی کر کے انھیں محکوم بنانا چاہتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی اشاعت کے نہایت قیمتی مواقع کھلے تھے۔ مگر سیاسی اسلام پسندوں کی تشدد دانہ کارروائیوں نے تمام مواقع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ لوگ وہی غلطی کر رہے ہیں جس کو تقابل کی غلطی کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کو ماننے والے اپنے مکمل اسلام کا تقابل جزئی اسلام سے کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس معاملہ میں یہ تقابل نہیں ہے ، یہاں جو تقابل ہے وہ فروعی اسلام اور اساسی اسلام میں ہے۔ مکمل اسلام کے نام پر یہ لوگ دراصل فروعی اسلام کو لے رہے ہیں اور اساسی اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔ اور جب اساسی اسلام چھوٹ جائے تو صرف ایک ظاہری دھوم باقی رہے گی ، وہاں صحیح معنوں میں نہ اساسات باقی رہیں گے اور نہ فروع۔

ایران کی دار السلطنت تہران میں تنظیم اسلامی کا نفرنس (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کاسہ روزہ اجلاس ۱۲ دسمبر ۱۹۹۷ کو مکمل ہوا۔ اس کانفرنس میں ۵۵ اسلامی ملکوں کے سرکاری نمائندے شریک ہوئے ۔ اس کانفرنس کے اعلامیہ (تہران ڈکلریشن) پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی ۔ انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس ڈکلریشن میں اسلام کے نام پر ہونے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page