Al-Risala · February 1998 · page 42

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲

والے تشدد کی کھلی مذمت کی گئی ہے ۔

میں نے کہا کہ مگر مجھے اس پر کوئی خوشی نہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ تشدد کے خاتمہ کا ہے اور وہ اس اعلانیہ کے باوجود ختم ہونے والا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اعلانیہ میں تشدد کی جو مذمت کی گئی ہے وہ مجہول انداز میں ہے، وہ متعین انداز میں نہیں۔ اور غیر متعین اور غیر مشخص مذمت کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ۔

میں نے کہا کہ اسلام میں جنگ صرف منظم حکومت کے لیے جائز ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے غیر حکومتی سطح پر جہاد کے نام سے جو لڑائیاں جاری کر رکھی ہیں وہ صرف فساد ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر نے کہا کہ آپ مسلم لیڈروں پر تنقید کرتے ہیں مگر آپ ہندو لیڈروں پر تنقید نہیں کرتے ۔ اس کا راز کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا راز آپ کی بے خبری ہے۔ آپ نے شاید میری کچھ چیزیں پڑھی ہیں اور بہت سی دوسری چیزیں آپ نے نہیں پڑھیں اس لیے آپ کو یہ غلط فہمی ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھ کو کسی بھی شخص یا کسی بھی فرقہ سے کوئی عداوت نہیں۔ میرے دل میں سب کے لیے یکساں طور پر خیر خواہی کا جذبہ ہے۔ میرا یہی خیر خواہی کا جذبہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ قوم یا انسانیت کے لیے جہاں کہیں کوئی قابل اصلاح بات دیکھوں ، دلائل کی روشنی میں اس کی وضاحت کروں۔

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ عام ہند و لیڈر تو درکنار، میں نے اس ملک کی اس سب سے بڑی شخصیت پر تنقید کی ہے، جس کو فادر آف دی نیشن کا درجہ حاصل ہے۔ اور جس پر کھلی تنقید کرنے کی ہمت پچھلے پچاس سال سے نہ کسی ہندو کو ہوئی اور نہ کسی مسلمان کو ۔ یہ مہاتما گاندھی کی شخصیت ہے۔ میری اس بات کے ثبوت کے لیے آپ انگریزی روز نامہ پائیر کا شمارہ ۲۶ جنوری، ۱۹۹۴ دیکھ سکتے ہیں۔ میری یہ تنقید اتنی خلاف توقع تھی کہ امریکہ کے مشہور اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے شمارہ ۳۱جنوری ۱۹۹۷میں اس کا خلاصہ شائع کیا۔

اخبار پائیبر کے زیر انتظام نئی دہلی میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ اس میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس جلسہ میں گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ کیا گاندھی آج کے انڈیا میں کامیاب ہو سکتے تھے :

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page