متفرق ات سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳
اس جلسے کے پانچ مقررین میں سے ایک میں تھا۔ بقیہ کے نام یہ ہیں: رام چندر گاندھی، راوندر کمار، سوبرت مکھرجی، کے آر ملکانی۔ اس ڈسکشن میں لوگوں نے جو کچھ کہا وہ پانیز کے مذکورہ شمارہ میں مکمل طور پر شائع ہو چکا ہے۔ آپ اس کو اس میں دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے جو کچھ کہا وہ بھی اس میں مکمل طور پر چھپا ہوا موجود ہے ۔ میں نے اس موقع پر جو بات کہی تھی اسی کو اخبار نے اس رپورٹ کا عنوان بنایا ہے جو یہ ہے ــــ گاندھی نے ایک پرامن کو کی قیادت کی۔ وہ کوئی ریولیوشن نہیں لائے :
میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ تبدیلی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کو انگریزی میں کو کہا جاتا ہے ۔ یعنی ایک حکمراں کو ہٹا کر دوسرے حکمراں کو اس کی جگہ بٹھا دینا، بغیر اس کے کہ عمومی زندگی میں کوئی انقلاب آیا ہو۔ دوسری تبدیلی وہ ہے جس کو ریولیوشن کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس میں افراد کا کیریکٹر، سماجی اداروں کے حالات اور پورا سسٹم بدل کر کچھ سے کچھ ہو جائے ۔ اس تقسیم کے مطابق مہاتما گاندھی جو چیز لائے وہ ایک کو تھا نہ کہ ریولیوشن ۔
اپنی اس رائے کے حق میں تفصیلی دلائل دیتے ہوئے میں نے کئی باتیں کہیں۔ مثلاً میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے اپنی سوچ کے تحت برٹش راج کو تمام خرابیوں کی جڑ سمجھ لیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب انگریزوں کا اقتدار ختم ہو گا اور حکومت ملکی لیڈروں کے ہاتھ میں آ جائے گی تو تمام معاملات اپنے آپ درست ہو جائیں گے۔ مگر یہ ایک معصومانہ سوچ ہے کسی ملک یا سماج کے حالات اس کے افراد کے اندر تعمیری شعور جگانے سے آتے ہیں نہ کہ محض حکومتی افراد کے بدلنے سے ۔ ایک ہندو پروفیسر میری باتیں سن کر کسی قدر غصہ ہو گئے۔ انھوں نے شدید لہجے میں کہا کہ آپ گاندھی پر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں ۔ میرے دل میں گاندھی کی محبت ہے، مگر میرے دل میں اپنے ملک کی محبت اس سے بھی زیادہ ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues