Al-Risala · February 1998 · page 45

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵

خبر نامہ اسلامی مرکز۔ ۱۳۰

سویٹر لینڈ کے اخبار لے۔ جرنل دے جنیوا کے نمائندہ مسٹر ریجیس نس بوم (Regis Nusbaum) نے ۱۸جون ۱۹۹۷کو صدراسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر پچھلے پچاس سالوں کے اندر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ترقی کے وہی تمام مواقع موجود ہیں جو کسی بھی دوسرے ملک میں ہو سکتے ہیں۔ تاہم مسلمان ان مواقع کو بخوبی طور پر استعمال نہ کرسکے۔ اس کی واحد وجہ خود مسلمانوں کی نااہل قیادت ہے۔ تاہم مسلمان اب جاگ اٹھے ہیں، اور انھوں نے نئے شعور کے تحت ان مواقع کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

بی بی سی کی ٹی وی ٹیم نے ۸جولائی ۱۹۹۷کو صدراسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کسی بھی گروہ کے لیے عدم تحفظ کا مسئلہ خارج سے نہیں بلکہ داخل سے ہوتا ہے۔ گروہ کے اندر اگر داخلی استحکام ہو اور وہ ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزارنا جانے تو اس کے لیے کسی بھی مقام پر عدم تحفظ کا کوئی سوال نہیں۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی کے تحت ایک پینل ڈسکشن ہواجو۱۸جولائی ۱۹۹۷کوبراڈ کاسٹ کیا گیا۔ اس کا موضوع تھا: سیرت نبویؐ اور امن عالم کا مسئلہ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ امن کا قیام اسلام کا اولین مطلوب ہے، کیونکہ امن کے بغیر کوئی مثبت کام نہیں ہوسکتا۔ اسلام کا طریق کار پر امن طریقی کار ہے۔ متشددانہ طریق کار سراسر اسلام کے خلاف ہے۔

انگریزی ہفتہ وار آؤٹ لک (Outlook) کے نمائندے مسز سوما ودھوا اور مسٹر پر اشنت پنجیار نے ۲۲ جولائی ۱۹۹ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستان کے پچھلے پچاس سال کے حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت اگر چہ ناکام ہو گئی ہے لیکن انٹلیکچول قیادت تیزی سے ابھر رہی ہے اور مسلمانوں کا تعمیری مستقبل بنانے میں مصروف ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ایک امید افزا صورت حال ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page